’ووٹ چوری ‘کے بعد ’سیٹ چوری‘ کانگریس ملک گیر مہم شروع کرے گی

   

میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ کرنا جمہوریت پر حملہ ۔ مہنگائی اور بیروزگاری سے عوام پریشان ۔ وینوگوپال کی پریس کانفرنس

نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) کانگریس نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے پارٹی امیدوار میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ کیے جانے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے جمعرات کو الزام لگایا کہ ملک میں “ووٹ چوری کے بعد اب سیٹ چوری” بھی شروع ہو گئی ہے اور پارٹی اس کے خلاف قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر لڑے گی اور ملک گیر مہم شروع کرے گی۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں ہوئی جنرل سکریٹریوں، ریاستی انچارجوں اور ریاستی صدور کی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا نامزدگی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ کے دوران جمہوری اقدار کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش سے کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کے خلاف کوئی مجرمانہ معاملہ، ایف آئی آر یا چارج شیٹ نہیں تھی، پھر بھی یہ کہتے ہوئے ان کی نامزدگی مسترد کر دی گئی کہ انہوں نے عدالت سے موصولہ ایک نوٹس کا انکشاف نہیں کیا۔ اس کے برعکس جھارکھنڈ میں بی جے پی کی حمایت یافتہ ایک امیدوار کے نامزدگی فارم میں سنگین خامیاں ہونے کے باوجود اسے قبول کر لیا گیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ یہ دوہرا معیار ہندوستانی جمہوریت کی قابل رحم حالت کو ظاہر کرتا ہے ۔وینوگوپال نے کہا کہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے کو قانونی اور سیاسی دونوں سطحوں پر چیلنج کیا جائے گا۔ جمہوری اداروں کی غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے اس مسئلے کو عوام کے درمیان لے جانا ضروری ہے ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے ، پیپر لیک کے واقعات اور انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلیوں کے مسائل پر بھی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام عوام معاشی بحران سے جوجھ رہے ہیں لیکن حکومت ان مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کے بجائے صرف “ووٹ چوری اور سیٹ چوری” میں لگی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر ہے ، ایم ایس ایم ای سیکٹر سنگین بحران کا شکار ہے اور نوجوان اپنے مستقبل کے تعلق سے فکر مند ہیں۔ نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات سے جڑے تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام بھی بحران کے دور سے گزر رہا ہے ، لیکن حکومت کسی بھی مسئلے کی اخلاقی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے ۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور عام لوگوں کے مسائل پر ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ پارٹی ان مسائل پر ملک گیر مہم اور تحریک شروع کرے گی، جس کا خاکہ اگلے چند دنوں میں تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات، جمہوری نظام کے ساتھ کی جا رہی چھیڑ چھاڑ، معاشی عدم استحکام اور نوجوانوں کے مستقبل کے سامنے موجود چیلنجز انتہائی سنگین ہیں اور ان کے خلاف وسیع پیمانے پر عوامی بیداری مہم چلائی جائے گی۔