حیدرآباد ۔ صبح کے وقت جب سورج اپنی دھیمی دھیمی روشنی سے عالمی منظر کو خوش نما کرتاہے تو یہ صرف اندھیرے کو ختم کرنے کا صرف ایک عمل نہیں ہوگا بلکہ انسانوں کو سورج کی یہ کرنیں کئی ایک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں لیکن صبح کے وقت آبادی کی ایک بڑی تعداد خواب غفلت میں ہوتی ہے ۔صبح کی روشنی وٹامن ڈی کے حصول کا ایک آسان اور انتہائی شاندار ذریعہ ہے ۔ وٹامن ڈی کی کمی سے صحت کے کئی مسائل ہوجاتے ہیں اور عالمی سطح پر وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے دیکھی جا رہی ہے۔جاپان میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے والی ادویات استعمالکرنے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم ہوتا ہے۔طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین کی جانب سے 1256 افراد پر تین سال تک کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلمینٹس لیتے ہیں ان میں نہ صرف ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ان میں انسولین کی مقدار بھی بہتر رہتی ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین نے رضاکاروں کو دوگروپوں میں تقسیم کیا، جس میں سے ایک گروپ کو ماہرین نے یومیہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کی انتہائی کم مقدار فراہم کی، جب کہ دوسرے گروپ کو صرف سادہ گلوکوز دیا گیا۔ماہرین نے تحقیق کے دوران رضاکاروں کے ہر تین ماہ کے بعد مختلف ٹسٹ کیے، جن میں ان کے باڈی ماس انڈیکس کے علاوہ دیگر ٹسٹ بھی شامل تھے اور ان میں ذیابیطس کا بھی معائنہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے والے سپلمینٹس لے رہے تھے ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کے امکانات 11 فیصد کم تھے۔ تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد اور وٹامن ڈی کے سپلیمینٹ لینے والے افراد کے نتائج میں کوئی بہت بڑا نمایاں فرق نہیں تھا، تاہم یہ دیکھا گیا کہ سپلیمینٹ لینے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ماہرین نے تجویز دی کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کے لیے لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمینٹس لے سکتے ہیں۔
