عثمان نگر کا دورہ کیا ، چارمینار کی سیر بھی کی لیکن پکڑ میں نہیں آیا
حیدرآباد یکم / اکٹوبر ( سیاست نیوز ) نام فارس قادری عمر 20 سال ساکن ناگپور مہاراشٹرا ، پیشہ سیاسی قائدین کو فون کرکے فرائض یاد دلانا اور یہ بتانا کہ آپ قوم و ملت کے آقا نہیں بلکہ خادم ہیں ۔ عرض انہیں فون کالس کے ذریعہ خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کرنا ( یہ اور بات ہے کہ سیاست داں اسے ناک میں دم کرنا کہتے ہیں) ، کارنامے ، دفتر وزیر اعظم سے لیکر صدر مجلس اسد اویسی اور مجلس ارکان اسمبلی خاص طور پر ممتاز خان اور احمد پاشاہ قادری کو بار بار فون کرکے ان کا درجہ حرارت بڑھانا ۔ اس کم عمری میں فارس قادری کی ان حرکات سے گھر والے ، باہر والے سب پریشان بلکہ حیران ہیں ۔ حال میں فارس قادری نے مختلف چیلنجز کو قبول کرکے حیدرآباد کا دورہ کیا ۔ حیدرآباد میں آمد پر سوشیل میڈیا پر تصاوار وائرل ہونے لگی ۔ مثال کے طور پر وہ ارکان اسمبلی کا چیلنج قبول کرکے دارالسلام پہونچ گئے اور دارالسلام کے اندرونی میدان اور باب الداخلہ کے قریب تصاویر لی ۔ دارالسلام کے بعد انہوں نے کئی ماہ سے جھیل میں تبدیل عثمان نگر کا بھی دورہ کیا ۔ پرانا اور نئے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے دیکھا کہ پرانے شہر کی سڑکیں انتہائی تباہ کن حالت میں ہیں ۔ جابجا کچرے کے انبار ہیں اور سارا شہر جیسے کوڑے دان بن گیا ہو ۔ فارس قادری کو حیرت اس بات کی ہے کہ ایک ایم پی ، 7 ایم ایل اے اور دو ایم ایل سیز ، چالیس سے زائد کارپوریٹرس کے باوجود شہر کے سڑکوں کی حالت قابل رحم ہے ۔بہرحال فارس قادری چارمینار رکن اسمبلی کو فون کرکے بتاتے ہیں کہ وہ چارمینار پر ہیں اور دارالسلام آنا چاہتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں دارالسلام آرہا ہوں سب سے کہہ دو کہ نہ بھاگیں ۔ فارس قادری کی باتوں کا جواب ایم ایل اے یوں دیتے ہیں’ چارمینار پر ہیں اچھا ! اوپر چڑھ جاؤ‘ آج ہی آجاؤ ، اسمبلی ہے کل سے ، پڑھو اخبار معلوم ہوتا ، آپ دارالسلام آئیے پورے جنے ( لوگ ) ہیں ، سب ایم ایل اے ہیں ، سب کے ساتھ ملاقات ہوتی ، چائے وائی ، بسکٹ کھائیں گے ؟اب آؤ… نا) چارمینار سے آنے میں کتنی دیر ہوتی ، مجلس والے نہیں بھاگتے ، آؤ تم اتنے بہادر ہے تم سے ڈریں گے ‘ دورہ حیدرآباد کے موقع پر فارس قادری نے 12 فیصد تحفظات کے تعلق سے بھی مجلس قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ شہر کے ایک 61 سالہ صحافی کے ساتھ گفتگو میں جس کی آڈیو منظر عام پر آئی ۔ انہوں نے اپنی عمر 20 سال بتائی اور کہا کہ اگر عوام کی بہبود و ترقی کیلئے کام نہیں کریں گے تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ کیا جواب دو گے آپ کو سکریٹریٹ کی شہید مساجد کی فکر نہیں لیکن اترپردیش کے مسلمانوں کی فکر لاحق ہوگئی ۔ مسلمانوں کے نام پرلوٹنا چھوڑیں اپنی آخرت سنوارئیے اچھے کام کیجئے ، صرف دولت بٹورنے کو زندگی کا مقصد مت بنائیے کیونکہ زندگی کی شام کبھی بھی ہوسکتی ہے بابر سے لیکر اکبر اعظم خالی ہاتھ گئے ۔ فارس قادری نے مجلسی قائدین سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ اپنے رب کے حضور میں پہونچ کر یہی جواب دیں گے کہ ہم نے اپنے صدر کی ہدایت پر کام کیا ۔