ہنوئی : ویتنام کے سیاحتی شہر نے بلیوں اور کتوں کے گوشت کی فروخت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو چین کے بعد دوسرا ملک ہے جہاں گوشت سب سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔اے ایف پی کے مطابق ویتنام میں ہر سال ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ کے قریب کتوں کا گوشت کھایا جاتا ہے جہاں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گوشت کھانے سے بْری قسمت ان کے دور رہے گی۔عالمی ثقافتی مقام اور تاریخی تجارتی بندرگاہ ہوئی آن میں حکام نے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’فور پاز‘ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس میں بلی اور کتے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کا اعادہ کیا گیا ہے۔شہر کے نائب میئر دا ہنگ کا کہنا ہے کہ ’ہم جانوروں کی بھلائی چاہتے ہیں اور شہر کو سیاحت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔‘