ٹائٹا نک آبدوز پھٹ گیا‘ تمام 5مسافرین کی جان لے لی

,

   

یہ دریافت اس وقت سامنے ائی جب آبدوزاپنے 96گھنٹے کے اہم نشان کو عبور کرگیاتھا‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں آکسیجن کی فراہمی ختم ہوگئی تھی۔


ٹائٹانک آبدوز”تباہ ہوگیا“ ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار تمام پانچوں مسافرین کی جان چلی گئی ہے۔ ٹائٹاک کی تلاش کرنے والے گہرے سمندری آبدوز کی اب تلاش اختتام پذیرہوگئی ہے۔ٹائٹانک آبدوز کوچلانے والے امریکی نژاد کمپنی اوشین گیٹ ایکسپڈیشنس اس افسوسناک واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔

دنیا کے سمندروں کو تلاش کرنے اور ا ن کی حفاظت کے لئے غیرمتزلزل لگن کے ساتھ حقیقی مہم جوئی کے طور پرپانچ افراد نے انہوں نے ستائش کی ہے۔

ٹائٹانک آبدوز کے حادثے میں المناک طور پراپنی جانیں گنوانے والے افراد میں ہمیش ہارڈنگ‘ ایک برطانوی ارب پتی‘ اور ایکسپلوزر‘ شہزاد داؤد اور ان کابیٹا سلیمان داؤد پاکستان میں پیدا ہونے والے کاروباری اور برطانوی شہری‘ فرانسیسی سمندری ماہر اور ٹائٹانک میں ماہر پاؤل ہنری نارجولٹ‘دی امریکن کے بانی اور اوشین گیٹ کے چیف ایکزیکٹیو اسٹاک ٹون رش شامل ہیں۔

رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ ریئر ایڈ میرل جان ماگر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کینڈا کے بحری جہاز سے تعینات ایک بغیر پائلٹ گہرے سمندری روبوٹ نے جمعرات کی صبح ٹائٹن کا ملبہ صدی پرانے ملبے کے گمان میں تقریبا1600فٹ (488میٹر)سمندری سطح نیچے سے دریافت کیاہے۔ متعدد ممالک پر مشتمل وسیع پیمانے پر تلاش کی کوششوں کے باوجود 22فٹ آبدوزغیر محفوظ رہا۔

گہرائی میں اترنے کے بعد امدادی جہاز سے اس کارابط ختم ہوگیا۔ابتداء میں امید تب پیدا ہوئی جب سونار ہوائے نے ایسی آوازوں کاپتہ لگایاجو ممکنہ طور پر عملے کی بقاء کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔

تاہم بعد کاتجزیہ حتمی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ ربوٹیک آلات کے ذریعہ جاری تلاش کا مقصد معلومات اکٹھا کرنا ہے‘ لیکن انتہائی حالات اور گہرائی لاشوں کی بازیابی کے لئے بہت زیادہ چیلنجنز کا باعث بنتی ہے۔

تلاش میں تیزی پیدا کی گئی کیونکہ آبدوز میں آکسیجن کی سپلائی ایک اندازہ کے مطابق96گھنٹوں تک تھی جس کے بعد ٹائٹن غیرکارگرد ہوگیا۔