ٹاملناڈو میں ایم کے اسٹالن حکومت نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں ‘ جو تشکیل حکومت کے چند ماہ کے اندر ہی پیش کیا گیا ہے ‘ عوام کیلئے ایک بڑی راحت کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت نے ریاست میں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 3 روپئے کی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ریاست کے عوام کیلئے ایک بڑی راحت ہے ۔ تین روپئے فی لیٹر کی کمی بھی عوام کی توقعات سے قدرے زیادہ کہی جاسکتی ہے کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل قیمتو ں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ جہاں مرکزی حکومت بھاری ٹیکس پٹرول اور ڈیزل پر وصول کرتی ہے وہیں ریاستی حکومتیں بھی اپنے طورپر ویاٹ اور دوسرے محاصل کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو مسلسل بڑھانے کی ذمہ دار ہوئی ہیں۔ اگر قیمتوں اور محاصل کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پٹرول کی جملہ قیمت فی لیٹر میں 55 فیصد تو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کا ٹیکس رہتا ہے ۔ اسی طرح ڈیزل کی اصل قیمت فی لیٹر میں 50 فیصد ریاستی اور مرکزی ٹیکس ہوتا ہے ۔ اس طرح بنیادی قیمت پر مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر صد فیصد کمائی کر رہی ہیں۔ عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرتے ہوئے سرکاری خزانہ بھرنے پر توجہ کی جا رہی ہے ۔ غریب عوام کو راشن اور مفت ٹیکے دینے کے نام پر مرکزی حکومت پٹرولیم اشیا کی قیمتیں بڑھا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فلاحی اسکیمات ملک بھر میں پہلے ہی سے جاری ہیں ۔ عوام کے مختلف طبقات کو مختلف اسکیمات کے ذریعہ راحت اور فائدہ پہونچانے کا عمل ہندوستان میں اور ہندوستان کی ہر ریاست میں بہت پہلے سے جاری ہے ۔ اگر اسی طرح فلاحی اسکیمات کے نام پر عوام کو ہی لوٹا جائیگا تو پھر ان اسکیمات کا فائدہ کیا رہ جائیگا ؟ ۔ عوام سے ہی رقومات اینٹھ کر عوامی اسکیمات چلائی جائیں تو پھر یہ عوام پر بوجھ میں اضافہ ہی کا موجب ہوگا ۔ در اصل یہ مرکزی حکومت کی جانب سے عوام کو گمراہ کرنا ہے کیونکہ حکومت پٹرول اور ڈیزل و پکوان گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کرتے ہوئے اپنے حاشیہ بردار کارپوریٹس کو فائدہ پہونچانے اورہزاروں کروڑ کے قرض معاف کرنے میں مصروف ہے ۔
ٹاملناڈو میں چند ماہ قبل ہوئے اسمبلی انتخابات میں ایم کے اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے نے شاندار کامیابی حاصل کی اور حکومت بنائی ۔ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ریاست کے عوام کو راحت پہونچانے کا عمل شروع کردیا گیا تھا اور اب تین روپئے فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں کمی کرتے ہوئے اسٹالن حکومت نے مرکز کی نریندر مودی حکومت اور ملک کی تمام ریاستی حکومتوں کیلئے ایک مثال قائم کردی ہے ۔ حکومت اگر چاہے تو عوام کو فائدہ پہونچانے کیلئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور تلاش کرسکتی ہے ۔ اگر صرف کارپوریٹس ہی کو فائدہ پہونچانا مقصود ہو اور انہیں کے مفادات کی چوکیداری کرنی ہو تو پھر عوام پر اسی طرح بوجھ میں اضافہ کیا جاتا رہے گا ۔ کارپوریٹ طبقہ پر کسی طرح کا اضافی ٹیکس عائد کرنے اور غریب و متوسط عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے ہندوستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ یہاں غریب اور متوسط طبقات پر بوجھ عائد کرتے ہوئے صنعتکاروں کو آرام پہونچایا جا رہا ہے ۔ صنعتیں قائم کرنے کیلئے زمینات سونپ دی جاتی ہیں۔ بجلی اور پانی انتہائی معمولی قیمتوںپر دیا جاتا ہے ۔ غریب کی جھونپڑی میں روشنی کیلئے ماہانہ سینکڑوں روپئے بل وصول کئے جاتے ہیں۔ عوام پر ہر شئے کی خریدی پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ۔ ادویات اور دودھ کی قیمتیں تک مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں اور مرکزی حکومت ان پر قابو پانے کی کوشش تک نہیں کرتی ۔ حکومت مہنگائی کے معاملے میں پوری طرح سے ناکام ہوگئی ہے اور عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔
ٹاملناڈو میں جس طرح ایم کے اسٹالن حکومت نے ایک فراخدلانہ فیصلہ کیا ہے اور عوام کو بوجھ سے بچانے کی اپنے طور پر جو کوشش کی ہے وہ ساری ریاستوں اور مرکز کیلئے مثال ہے ۔ عوام راحت پہونچانے اپنے دعووں کو درست ثابت کرنے کیلئے ہر حکومت کو سرکاری خزانہ پر کچھ بوجھ برداشت کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ خانگی صنعتوں اور کارپوریٹس کو راحت پہونچانے اور ان کے قرض معاف کرنے کی بجائے عوام کو سہولت فراہم کرنے پر حکومتوں کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت بھی اپنے محاصل میں کمی کرسکتی ہے اور ریاستی حکومتیں بھی اس لوٹ میں اپنی حصہ داری کو کم کرسکتی ہیں ۔ ہر ایک کو عوام کو بوجھ سے بچانے کچھ قربانی دینی چاہئے ۔
