کٹتی ہے سہارے کی آرزو پہ زندگی
کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے
جنوبی ہند کی ریاست ٹاملناڈو میں بی جے پی تاحال اپنا کوئی خاص اثر دکھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ پارٹی نے 2021 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی تاہم لوک سبھا انتحابات 2026 میں پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھل پایا تھا ۔ ریاست کی سیاست میں بی جے پی کی کوئی خاص سیاسی اہمیت نہیں ہے اور بی جے پی کو اس بات کااحساس بھی ہے ۔ مرکز میں تیسری معیاد میں حکمرانی پر فائز رہنے کے باوجود بی جے پی ٹاملناڈو میں اپنا حلقہ اثر وسیع کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی جانب سے ریاست میںکسی نہ کسی سہارے کی تلاش کی جاتی رہی ہے ۔ کبھی کسی جماعت کے ساتھ تو کبھی کسی جماعت کے ساتھ اتحاد کیا گیا ہے اور اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ پارٹی کا اتحاد ہے ۔ تاہم اے آئی اے ڈی ایم کے بھی بی جے پی کو اتنی اہمیت دینے تیار نہیں ہے جتنے کی بی جے پی خواہش رکھتی ہے ۔ اس اتحاد میں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اور بی جے پی اورا س کے بڑے قائدین کو اس بات کا احساس ہے کہ جب تک کسی زبردست طاقت کا ساتھ نہ لیا جائے اور ہا تھ نہ ملایا جائے اس وقت تک ریاست میں بی جے پی اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل میں کامیاب نہیں ہو پائے گی ۔ٹاملناڈو کی سیاست اکثر و بیشتر دو سیاسی جماعتوں ڈی ایم کے اور آل انڈیا اناڈی ایم کے گرد ہی گھومتی رہی ہے ۔ کبھی ایک جماعت کو تو کبھی دوسری جماعت کو اقتدار حاصل ہوتا رہا ہے ۔ یہی روایت کئی معیادوں سے چل رہی ہے ۔ جہاں تک کانگریس کی بات ہے تو پارٹی نے ڈی ایم کے ساتھا تحاد کیا ہوا ہے اور یہ اتحاد مضبوط اور مستحکم ہے ۔ بی جے پی کو اب ٹاملناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجئے کے روپ میں ایک امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے ۔ پارٹی انہیں رجھانے اور ان کے ساتھ ہاتھ ملا کر ریاست کی سیاست میں اپنا حلقہ اثر وسیع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ اپنے قدم کو مضبوطی سے جمانے کیلئے پارٹی کی جانب سے منصوبہ بندی شروع کی گئی ہے ۔
وجئے ٹاملناڈو کے ایکک مقبول فلمی ستارے ہیں۔ ٹاملناڈو میں جئے للیتا کا فلموں ے تعلق رہا ہے اور وہ ریاست کی چیف منسٹر بنی تھیں۔ اسی طرح کئی سیاستدان ٹاملناڈو میں ایسے ہیں جو فلمی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وجئے کا بھی فلمی پس منظر ہے ۔ وہ بہت مقبول ہیں اور اسی مقبولیت کے بل پر انہوں نے ریاست میں نئی سیاسی جماعت ٹی وی کے کی تشکیل عمل میںلائی ہے ۔ اب وہ اسی مقبولیت کے سہارے اپنے سیاسی سفر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور انہوں نے عوامی رابطوں کے پروگرام بھی شروع کردئے ہیں۔ انہیں دیکھنے کیلئے بھیڑ بھی جمع ہو رہی ہے ۔ ایسے میں بی جے پی وجئے کو اپنے لئے ایک موقع سمجھ رہی ہے اور وہ وجئے کے ساتھ اتحاد کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے ۔ اس کیلئے وجئے کے ساتھ رابطے بھی شروع کردئے گئے ہیں اور انہیں رجھانے اور کسی طرح اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وجئے سیاست میں نئے ہیں اور انہیں کوئی عملی تجربہ بھی نہیں ہے تاہم ان کیلئے یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے جہاں کہیں بی جے پی کمزور ہوتی ہے وہ علاقائی جماعتوں کا سہارا لیتی ہے ۔ کامیابی حاصل کرتی ہے ۔ اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کے بعد علاقائی جماعت کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور خود آگے بڑھ جاتی ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اسیی مثالیں موجود ہیں۔ پنجاب سے مہاراشٹرا تک ‘ کشمیر سے بنگال تک اوڈیشہ سے آندھرا پردیش تک اس کی مثالیں موجوفد ہیں اور ان تمام مثالوں کو وجئے کو ذہن نشین رکھنا چاہئے ۔
مہاراشٹرا میں بال ٹھاکرے جیسی شخصیت کی پارٹی کو بھی بی جے پی نے اپنے سیاسی مفاد کیلئے توڑ دیا ہے اور اس میں پھوٹ ڈال دی ہے ۔ بال ٹھاکرے مہاراشٹرا کے عوام میں کافی مقبولیت رکھتے تھے تاہم ان کی پارٹی کا بھی حال بی جے پی نے برا کردیا ہے ۔ ایسے میں وجئے کو جلد بازی یا ناتجربہ کاری میں کوئی فیصلہ نہیں کرناچ اہئے اور اگر وہ واقعی ٹاملناڈو کی بہتری کیلئے سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنا سفر تنہا ہی جاری رکھناچاہئے ۔ بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی کو جنوبی ہند کی ایک اہم ریاست ٹاملناڈو میں قدم جمانے کا موقع نہیں دیا جانیا چاہئے ۔ بی جے پی کا استحکام ٹاملناڈو کے مفاد میں ہرگز نہیں ہوسکتا ۔
