واشنگٹن : کولمبیا یونیورسٹی کے خلیل نامی طالب علم کو فلسطین کے حق میں مظاہر کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا۔ خلیل نامی طالب علم کے خلاف دفترِ خارجہ کی جانب سے ہدایت ملنے پر کارروائی کر رہے ہیں تاکہ خلیل کا اسٹوڈنٹ ویزا ختم کیا جا سکے۔محمد خلیل کے وکیل ایمی گریر نے میڈیا کو بتایا کہ محمد خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے اپارٹمنٹ میں موجود تھے، جب مین ہٹن کیمپس میں متعدد امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹس نے انہیں گرفتار کیا۔واضح رہے کہ یہ گرفتاری امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے حکم پر ان غیر ملکی طلباء کے خلاف کارروائی کا حصہ ہے جو فلسطین کے حق میں مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔امریکی انتظامیہ کی جانب سے کولمبیا یونیورسٹی کیلئے 400 ملین ڈالرز کی وفاقی گرانٹ میں کٹوتی کر دی گئی ہے۔گرفتار طالبعلم محمود خلیل کے پاس گرین کارڈ ہے ، جس کو محکمہ خارجہ کی ہدایت پر منسوخ کیا جا رہا ہے ۔ محمود خلیل کو نیوجرسی کے امیگریشن حراستی مرکزمیں رکھا گیا ہے ، شام میں پیدا ہونے والے محمود خلیل کے وکلا نے امیگریشن حکام کیخلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔طالب علم کی رہائی کیلئے آج نیویارک اور نیو جرسی میں طلبہ تنظیموں نے مظاہرہ کیا ۔