واشنگٹن ۔ 7 فروری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کی توہین آمیز اے آئی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے نے امریکہ میں ایک نئی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور خاتون اول مشال اوباما کی انتہائی توہین آمیز اے آئی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پرشیئر کی تاہم ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید سامنے آئی اور اس عوامی ردعمل کے بعد صدر ٹرمپ کو یہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔ میڈیا کے مطابق اس ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بے بنیاد اور سازشی الزامات بھی شامل تھے جبکہ آخری منظر میں باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کو ایک جنگل میں نامناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے، ویڈیو میں باراک اوباما اور مشیل اوباما کی تصاویر دو بندروں کی شکل میں تبدیل کر دی گئی تھیں، جس پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں شدید تنقید ہوئی۔ ری پبلکن سینیٹر ٹم اسکاٹ نے ویڈیو کو صدر کی جانب سے سب سے زیادہ نسل پرستانہ اقدام قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی اس اقدام پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر امریکی، حتیٰ کہ ری پبلکن رہنماؤں کو بھی اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔ ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس نے تنقید کو ‘‘جعلی غم و غصہ’’ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک وائرل میم ہے جس میں ٹرمپ کو جنگل کا بادشاہ یعنی شیر اور ڈیموکریٹس کو رعایا کے طور پر دکھایا گیا، تاہم عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد وائٹ ہاؤس نے موقف تبدیل کرتے ہوئے بتایا کہ ویڈیو غلطی سے شیئر کی گئی تھی اور اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اس واقعہ کے بعد کہا کہ انہوں نے پوسٹ مکمل طور پر نہیں دیکھی اور جیسے ہی حقیقت کا پتہ چلا، پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔ میں ہزاروں چیزیں دیکھتا ہوں اور یہ کوئی غلطی نہیں تھی۔
ایران سے مذاکرات اچھے رہے، ڈیل کے قریب ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 7 فروری (ایجنسیز) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات اچھے رہے اور فریق ڈیل کے قریب ہیں۔ ایئر فورس ون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہت اچھے مذاکرات ہورہے ہیں۔ ان کے خیال میں جمعہ کو ہوئے مذاکرات کے نتائج اچھے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اگلے ہفتہ کے شروع میں ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ڈیڑھ سال پہلے کے مقابلے میں اس بار عمل کے لیے کہیں زیادہ تیار ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کو ہوئے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اس سے پہلے دونوں ممالک کے اہلکار اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کریں گے۔