واشنگٹن : 30اپریل ( یو این آئی )سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جان کو دھمکی دینے پر سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی نے ورجینیا میں حکام کے سامنے خود کو پیش کر دیا ہے۔کومی، جو امریکی صدر کے کھلے ناقد ہیں اور جن پر پہلے دیگر وفاقی الزامات بھی عائد ہوئے تھے جو بعد میں خارج کر دیے گئے انہوں نے مئی 2025 میں انسٹاگرام پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں نارتھ کیرولائنا کے ایک ساحل پر سیپیوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ وہ 86 اور 47 کے ہندسوں کی شکل بناتے تھے۔کومی کو ایک الزام کا سامنا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر امریکی صدر کی جان لینے اور جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی اور ایک اور الزام بین الریاستی دھمکی دینے کا ہے۔ واضح رہے کہ ہر الزام کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید ہے۔سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں ایک سماعت کے لیے پیش ہوئے، جہاں انہوں نے کوئی جواب داخل نہیں کیا اور بعد میں انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی۔قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ کومی کی اگلی عدالتی پیشی کب ہوگی۔ بلانش نے فردِ جرم کا دفاع کرتے ہوئے کہا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا “8647” کے اعداد پوسٹ کرنے والا ہر شخص الزامات کا سامنا کرے گا تو انہوں نے کہا کہ ہر دھمکی کا کیس مختلف ہوتا ہے۔ ہر بار جب صدر کے خلاف دھمکی ہوتی ہے تو لازمی نہیں کہ اس سے فردِ جرم عائد ہو۔کومی نے اس وقت انسٹاگرام پوسٹ پر معذرت کی اور کہا کہ انہیں یہ احساس نہیں تھا کہ کچھ لوگ ان اعداد کو تشدد سے جوڑتے ہیں ،یہ بات میرے ذہن میں کبھی نہیں آئی لیکن میں ہر قسم کے تشدد کی مخالفت کرتا ہوں۔
اس لیے میں نے پوسٹ ہٹا دی۔ستمبر میں، کومی پر کانگریس کو جھوٹے بیانات دینے اور ایک کانگریسی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جسے وسیع پیمانے پر ریپبلکن صدر کی جانب سے ایک سیاسی مخالف کے خلاف انتقامی کارروائی سمجھا گیا۔ایک وفاقی جج نے اس کیس کو اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیا گیا پراسیکیوٹر جس نے الزامات عائد کیے تھے غیر قانونی طور پر مقرر کیا گیا تھا۔کومی 2013 سے 2017 تک ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رہے جنہیں مئی 2017 میں ٹرمپ نے برطرف کر دیا تھا۔