واشنگٹن ۔ 9 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو آئندہ ہفتے واشنگٹن پہنچیں گی۔ جمعرات کی شام فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی حملوں کے بعد، جن کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، ماچاڈو سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق ماچاڈو اگلے ہفتے کسی وقت آئیں گی اور وہ ان سے ملاقات کے منتظر ہیں۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ملاقات کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ ٹرمپ اور ماچاڈو کے درمیان پہلی ممکنہ ملاقات ہو گی۔ ماچاڈو نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ اکتوبر میں نوبل امن انعام جیتنے کے بعد ان کی امریکی صدر سے کوئی بات نہیں ہوئی۔جنوبی امریکہ میں واقع وینزویلا کے سیاسی مستقبل پر اب بھی سوالات قائم ہیں۔ چند روز قبل ٹرمپ نے ماچاڈو کے ساتھ کام کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ملک کے اندر حمایت یا احترام حاصل نہیں۔ فوکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ عبوری خاتون صدر ڈیلسی روڈدریگز کی قیادت میں وینزویلا کو انتخابات کے قابل ہونے میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا کیونکہ موجودہ حالات میں انتخابات ممکن نہیں۔ادھر جمعرات کو وینزویلا نے غیر ملکیوں سمیت ’’بڑی تعداد‘‘ میں سیاسی قیدیوں کی رہائی شروع کی، جسے وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مادورو کی معزولی کے بعد عبوری حکومت نے کسی قسم کی نرمی دکھائی ہے۔ وینزویلا کی قومی اسمبلی کے سربراہ خورخی روڈریگز نے کہا کہ پْر امن بقائے باہمی کے فروغ کیلئے وینزویلا کے شہریوں اور غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کو رہا کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے تعداد واضح نہیں کی۔اسی دوران ٹرمپ نے منشیات فروش گروہوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارٹیلز کے خلاف زمینی حملے شروع کریں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ میکسیکو پر قابض ہو چکے ہیں۔امریکی خصوصی فورسز نے گذشتہ ہفتے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا، جہاں ان پر اسلحہ اور منشیات اسمگلنگ کے مقدمات چل رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو ‘‘انتظامی طور پر چلائے گا’’ اور اس مقصد کیلئے ملکی تیل کے شعبے پر غلبے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت وینزویلا امریکہ کو کروڑوں بیرل تیل فراہم کرے گا۔
