واشنگٹن : امریکی سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خط بھیج کر نیوکلیر پروگرام پر مذاکرات کی دعوت دی ہے تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال یہ خط موصول نہیں ہوا اور موجودہ حالات میں امریکہ سے براہ راست مذاکرات ممکن نہیں غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہوں نے جمعرات کے روز یہ خط بھیجا اور امید ظاہر کی کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو فوجی کارروائی ایک متبادل آپشن ہو سکتی ہے، تاہم ان کی ترجیح مذاکرات کے ذریعہ مسئلے کا حل نکالنا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رہے گی اس وقت تک ایران اور امریکہ کے درمیان نیوکلیر مسئلے پر براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں ایران کے ساتھ عالمی نیوکلیر معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جسے بحال کرنے کے لیے جوبائیڈن انتظامیہ نے بھرپور کوششیں کیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد اور امریکی پابندیوں کی موجودگی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔