ٹرمپ کے حامیوں کو کچرا کہنے پر سابق صدر کچرا ٹرک میں جا بیٹھے

   

واشنگٹن/ نیویارک : ریاست ہائے متحدہ امریکہ ( یو ایس اے) نے کوئی بھی عالمی منظر ہو، یونہی اپنی بالادستی قائم نہیں رکھی ۔ ’سرد جنگ‘ اور دور قطبی نظام کے ادوار میں یو ایس ایس آر ( یویت یونین آف سویت سوشلسٹ ری پبلک) کا شیرازہ بکھیرنے میں امریکی سیاسی سسٹم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ تب کے امریکی سیاسی قد آور قائدین اور آج کے لیڈروں کو دیکھیں تو زمین اور آسمان جیسا فرق معلوم ہورہا ہے ۔ موجودہ صدر جوزف بائیڈن نے اپنے پیشرو ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں کو کچرا کہتے ہوئے ذلیل کیا تو موصوف ری پبلکن صدارتی امیدوار اور وائیٹ ہاؤس کے سابق مکین آج کچرا اٹھانے والے ٹرک پر بیٹھ گئے ۔ ایک دور تھا ، دنیا بھر میں امریکی سیاسی اقدار کی مثال دی جاتی تھی مگر اب حال تیزی سے یہ ہونے لگا ہے کہ وہاں اعلیٰ تعلیم اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے پہنچنے والے بہترین دماغوں کو وسیع تر براعظم امریکہ کی کئی ریاستوں کا انتظام سنبھالنا پڑے گا ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ سبز اور نارنجی رنگ کی ہلکی جیکٹ (کچرا اٹھانے والے پہنتے ہیں)زیب تن کر کے ٹرک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ٹرمپ آج اپنی انتخابی مہم کے لیے امریکی ریاست ونکونسن پہنچے اور بوئنگ طیارے سے اترنے کے بعد وہ سیدھا ایک کچرا اٹھانے والے ٹرک میں جا بیٹھے جو اُن کے انتظار میں تھا ۔ بعد ازاں انہوں نے کچرا اٹھانے والے ملازمین کے مخصوص جیکٹ پہن کر ریلی سے خطاب بھی کیا۔ سابق امریکی صدر نے کچرا ٹرک میں بیٹھے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ بائیڈن اورڈیموکریٹ امیدوارہ کملا ہیرس کے اعزاز میں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں صدر جوبائیڈن نے ٹرمپ کو ناکام ترین شخص اور ان کے سپورٹرز کو کچرا قرار دیا تھا ۔تاہم کملا ہیرس نے بائیڈن کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کامیابی حاصل کرکے تمام امریکیوں کی نمائندگی کریں گی۔کملا ہیرس نے کہا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کس نے انہیں ووٹ دیا اور کس نے نہیں۔