واشنگٹن، 5 جون (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ معاہدہ ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات ہو جائے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایرانی سپریم لیڈر سے ملنا نہیں چاہتا لیکن ان سے ملاقات میں مجھے کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ اگر ملاقات ہوئی تو اعزاز کی بات ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اگر معاہدہ طے پاتا ہے تو مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ممکن ہے اور بہتر بھی یہی ہوگا کہ ڈیل ہونے کے بعد ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا، سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ بغیر کسی ڈیل کے بھی ایرانی یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ہم اسے ابھی حاصل کر سکتے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ ہمیں روک سکتے ہیں۔ ہم فوجی طاقت یا معاہدے کے ذریعے جیتیں گے ۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہمارے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے ، ہمیں نیٹو کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کردیا۔ اس کے تمام 159 جہاز سمندر کی تہہ میں ہیں۔ اب ایران کے پاس نہ کوئی لیڈر شپ ہے اور نہ ہی فوجی جنرلز ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جو کچھ ختم کر سکتے ہیں کر دیا، لیکن فیک نیوز جھوٹ بولتی ہے ۔ ایران جنگ سے متعلق فیک نیوز کی خبروں کو دیکھیں تو حیران ہوتے ہیں۔ فیک نیوز کو ایران کے سمندر کی تہہ میں موجود جہازوں کو دیکھنا چاہیے ۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے نکات جلد سامنے آجائیں گے ۔ معاہدے کے اہم ترین نکات یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔ ہم خلا سے ایرانی جوہری مقامات کی نگرانی کر رہے ہیں، جو بھی ایرانی جوہری مقامات کے قریب پہنچے گا ہم اس سے نمٹیں گے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے قومی سلامتی کے معاملے پر اہم کام کیے ہیں۔ میں نے 8 جنگیں رکوائیں، اور مزید جنگیں بھی رکواؤں گا۔ مجھے نیشنل سیکیورٹی کا تجربہ ہے ، ایک اور جنگ بھی روکنے جا رہا ہوں۔ یہ بہت اچھا ہوگا اگر یوکرین اور روس کے صدر ملاقات کریں۔
ایرانی حملہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی وجہ بن سکتا ہے : ٹرمپ
واشنگٹن ، 5 جون، (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر کسی بھی حملے کو جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز سمجھا جا سکتا ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایرانی قیادت، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے بغیر بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے ، تاہم امریکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے ، تاہم اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایسی ملاقات ممکن ہو سکتی ہے ۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمد و رفت کے لیے کھول دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ہر صورت امریکہ کی فتح ہوگی اور جلد ہی معاہدے کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ لبنان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہاں امن کا قیام لبنان کے مفاد میں ہے اور اس معاملے پر حزب اللہ سے بھی گفتگو کی گئی ہے ۔ روس اور یوکرین تنازع کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ولودیمیر زیلنسکی اور ولادیمیر پوتن ملاقات کریں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، کیونکہ مسئلے کے حل کے لیے مصالحت ضروری ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے ۔
مودی میرے اچھے دوست، ہندوستان کیساتھ عنقریب تجارتی معاہدہ:ٹرمپ
واشنگٹن، 5 جون (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ہندوستان اور امریکہ جلد ہی ایک تجارتی معاہدے تک پہنچ جائیں گے ۔ یہ بات انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک معاہدے تک ضرور پہنچیں گے ، کیونکہ میں ہندوستانی وزیراعظم کو بہت پسند کرتا ہوں۔ وہ میرے اچھے دوست ہیں۔ ہمارے درمیان بہترین تال میل ہے اور ہم مل کر یہ ڈیل کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اب ہندوستان کے ساتھ کافی منافع کما رہا ہے ۔ پہلے صورتحال مختلف تھی اور ہندوستان بھاری ٹیرف لگا کر امریکہ سے پیسے کماتا تھا۔ اپنی بات کو سمجھانے کے لیے مسٹر ٹرمپ نے امریکی موٹرسائیکل برانڈ ’ہارلے ڈیوڈسن‘کی مثال دی۔ انہوں نے دلیل دی کہ ماضی میں ہندوستان کے لگائے گئے اونچے ٹیرف کی وجہ سے اس باوقار مینوفیکچرر کے لیے ہندوستان میں اپنی گاڑیاں بیچنا بے حد مشکل ہو گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں، وہ ہارلے ڈیوڈسن کو اپنی موٹرسائیکلیں نہیں بیچنے دیتے تھے۔ انہوں نے 200 فیصد کا ٹیرف لگا رکھا تھا، جس سے ہارلے ڈیوڈسن کے لیے راستے بند ہو گئے تھے ۔ آخر کار کمپنی کو ہندوستان جا کر اپنے خود کے پلانٹ لگانے پڑے ۔ جو ہوا وہ بدقسمت تھا، لیکن ایسا ہوا۔ یہ سب میرے دورِ اقتدار سے پہلے کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی یہاں موٹرسائیکلیں بیچتے تھے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم ان سے کتنا محصول لیتے تھے ؟ کچھ بھی نہیں۔ اور اب صورتحال اس کے بالکل الٹ ہے ۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کافی منافع کما رہے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ ہندوستان برسوں سے امریکی پالیسیوں کا فائدہ اٹھا رہا تھا اور بھاری بھرکم ٹیرف وصول کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہماری کمپنیوں سے بھاری مقدار میں ٹیرف وصولتے تھے اور ہم ان سے کچھ بھی نہیں لیتے تھے ۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے ، جب امریکی وفد نے نئی دہلی میں ایک عبوری دو طرفہ معاہدے پر چار دنوں تک چلی بات چیت کو جمعرات کو مکمل کیا ہے ۔ ہندوستان کی وزارتِ تجارت نے اس بات چیت کے بارے میں کہا کہ تجارتی بات چیت تعاون اور عملیت پسندی کی روح سے بھری رہی۔ دونوں فریقین نے ایک ایسے باہمی طور پر فائدہ مند معاہدے تک پہنچنے کے عزم کا اعادہ کیا، جو دو طرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے ۔