ایگزیکٹیو احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتاہے اور اگلا صدر انہیں تبدیل بھی کرسکتا ہے
واشنگٹن: اپنی حلف برداری کے فوراً بعد، نئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امیگریشن، صنفی مسائل اور دیگر اہم موضوعات سے متعلق کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ملک فوری طور پر بدل جائے گا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے عہدہ صدارت کے پہلے دن کئی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔ آرڈرز کی اتنی بڑی تعداد جو نہ صرف غیر معمولی تھی، بلکہ انہوں نے یہ دست?خط اپنے حامیوں کی موجودگی میں کیپیٹل ون ایرینا میں ریڈ ڈیسک پر کیں۔ حالانکہ عام طور پر، ہر نیا امریکی صدر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرتا ہے۔ ٹرمپ نے بعد میں دن میں مزید احکامات پر وہیں دستخط کیے۔ایگزیکٹیو آرڈرز وہ ہدایات ہیں جو صدر کانگریس سے مشورہ کیے بغیر جاری کرتے ہیں۔ کانگریس ہی باقاعدہ قوانین کی منظوری دیتی ہے۔ صدر ایوان اور سینیٹ کو نظر انداز کرکے وفاقی حکام کو براہ راست اپنی ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔تاہم، ان ایگزیکٹو آرڈرز کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، اور اگلا صدر اسے تبدیل کر سکتا ہے۔واشنگٹن میں امریکن یونیورسٹی میں سیاست، گورننس اور معاشیات کی پروفیسر مشیل ایگن نے ای میل کے ذریعے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان صدارتی فرمودات پر دستخط کرنا ” تیزی سے گورننس کی اہم شکل بن گیا ہے لیکن انہیں آسانی سے الٹا بھی گیا ہے۔”انہوں نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے دستبردار ہو رہا ہے اور بعد میں وائٹ ہاؤس میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے نکل جائے گا۔ٹرمپ کی مہم کے سب سے بڑے موضوعات میں سے ایک، امیگریشن، بھی پہلے دن کے کئی ایگزیکٹو آرڈرز کا حصہ تھا۔ صدر نے میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر ایک قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا، تاکہ حکومت اس پر قابو پا سکے جسے ٹرمپ ایک تباہ کن صورت حال کہتے ہیں۔ اور اس سے غیر دستاویزی تارکین وطن کے اس “حملے” کو روکا جا سکتا ہے جو بائیڈن کی صدارت میں ہوا تھا۔ٹرمپ کی مہم کا ایک اور اہم موضوع ایل بی جی ٹی کیو پلس سے متعلق تھا۔