ٹرپل آئی ٹی باسر پہونچنے پر سی پی آئی قائد ڈاکٹر نارائنا گرفتار

   

ولی اللہ قادری و دیگر قائدین کو بھی احتجاجی طلبہ سے ملاقات سے روک دیا گیا
حیدرآباد 16 جون (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا اور آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ریاستی صدر ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری کو پولیس نے آج نرمل کے باسر میں اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ احتجاجی طلبہ سے اظہار یگانگت کے لئے پہونچے تھے۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی نالج اِن ٹیکنالوجی جسے ٹرپل آئی ٹی بھی کہا جاتا ہے وہاں کے طلبہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں حکام کی کوتاہی پر گزشتہ تین دن سے احتجاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نارائنا، سید ولی اللہ قادری اور دیگر کمیونسٹ قائدین طلبہ سے ملاقات کے لئے حیدرآباد سے باسر پہونچے۔ پولیس نے اُنھیں روک دیا اور حراست میں لے لیا۔ ڈاکٹر نارائنا نے پولیس کے رویہ پر سخت ناراضگی جتائی اور کہاکہ جمہوریت میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔ طلبہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے گزشتہ 3 دن سے احتجاج کررہے ہیں لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ڈاکٹر نارائنا نے حکومت سے فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ناقص غذا اور دیگر سہولتوں کے مسئلہ پر طلبہ کا احتجاج حکومت کی توجہ کے لئے کافی ہے۔ ڈاکٹر نارائنا نے پارٹی قائدین کے ساتھ پرامن دھرنا منظم کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے طلبہ کے خلاف بیان دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ طلبہ پر تنقید کرنے کے بجائے حکومت کو فوری مسائل کی یکسوئی کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر نارائنا کے ہمراہ جن قائدین کو حراست میں لیا گیا اُن میں شیخ باشاہ، اے رگھورام، ومشی کرشنا، کشال ارونا اور دیگر قائدین شامل ہیں۔ اِسی دوران سی پی آئی تلنگانہ کے انچارج سکریٹری پی وینکٹ ریڈی نے ڈاکٹر نارائنا کی گرفتاری کی مذمت کی۔ ر