ٹوئٹر انتظامیہ جعلی اکاؤنٹس کے بارے میںمعلومات فراہم کرنے میں ناکام ، سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی دستاویزات میں انکشاف
نیویارک : اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے ٹوئٹر کی جانب سیکمپنی خریدنے کے معاہدے سے دستبرداری کے خلاف مقدمہ کی سماعت جلد شروع کرنیکی درخواست چیلنج کردی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست ڈیلاویئرکی عدالت میں مسک کے وکلا نے اپیل دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہیکہ 44 ارب ڈالرز میں کمپنی خریدنیکے معاہدے سے دستبردار ہونے پر ٹوئٹرکی جانب سے مسک کے خلاف دائر مقدمیکی سماعت 2 ماہ میں شروع کرنیکی بلاجواز درخواست مسترد کی جائے۔خیال رہیکہ رواں سال اپریل کے آخر میں ایلون مسک اور ٹوئٹر کے درمیان 44 ارب ڈالرز میں سوشل میڈیا کمپنی خریدنیکا معاہدہ طے پایا تھا تاہم گزشتہ دنوں اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک ٹوئٹر خریدنے کے معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق ایلون مسک نے کہا تھا کہ ٹوئٹر انتظامیہ جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی اس لیے میں سوشل میڈیا کمپنی کو خریدنے کے اپنے معاہدے سے دستبردار ہورہا ہوں۔تین روز قبل ٹوئٹر نے 44 ارب ڈالرز میں کمپنی خریدنے کے معاہدے سے دستبردار ہونے پر ایلون مسک کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔امریکی ریاست ڈیلاویئر کی عدالت میں دائر مقدمے میں ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص کو 54.20 ڈالر فی شیئر میں کمپنی خریدنیکے معاہدے کی پاسداری کا حکم دے۔عدالت میں دائر مقدمے میں ٹوئٹر انتظامیہ نے مقدمیکی سماعت ستمبر کے ا?غاز میں شروع کرنیکی درخواست کی ہیکیونکہ مسک کے ساتھ انضمام کا معاہدہ 25 اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے۔ایلون مسک کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2 ماہ تک تاخیری حربوں کے بعد ٹوئٹر کی جانب سے مقدمے کی سماعت میں جلدی کرنا اس کا تازہ حربہ ہے تاکہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ مزید طویل ہوجائے۔مسک کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی ہیکہ آئندہ سال فروری کے وسط میں یا اس کے بعد ٹرائل شروع کیا جائے۔