ٹورنٹو۔ 26 ڈسمبر (ایجنسیز) کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک افسوسناک واقعہ نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ کینیڈا میں مقیم ہندوستانی برادری کو بھی شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو اسکاربروکے کیمپس کے قریب ایک ہندوستانی نژاد طالب علم کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ 23 دسمبر 2025 کو پیش آیا۔پولیس اور قونصل خانے کی معلومات کے مطابق مقتول طالب علم کی شناخت شِوانک اوستھی کے طور پر کی گئی ہے، جو ٹورنٹو کے رہائشی تھے اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو اسکاربرو کیمپس سے وابستہ تھے۔ وہ نہ صرف تعلیم کے میدان میں سرگرم تھے بلکہ یونیورسٹی کی چیئر لیڈنگ ٹیم کے رکن بھی تھے، جہاں انہیں ایک خوش مزاج اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے طالب علم کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ٹورنٹو پولیس کے مطابق منگل کی سہ پہر تقریباً 3:34 بجے ہائی لینڈ کریک ٹریل اور اولڈ کنگسٹن روڈ کے علاقے سے مشتبہ صورتحال کی اطلاع موصول ہوئی۔ پولیس جب موقع پر پہنچی تو شِوانک اوستھی کو گولی لگنے کی حالت میں پایا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد مشتبہ افراد فرار ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ یونیورسٹی کے قریب واقع ہائی لینڈ کریک ویلی کے ٹریلز کے نزدیک پیش آیا، جس کے بعد احتیاطی طور پر کیمپس کے بعض حصوں میں عارضی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو ہدایت دی کہ وہ سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہونے تک محفوظ مقامات پر رہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سال 2025 میں ٹورنٹو میں پیش آنے والا 41واں قتل ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ ایک الگ تھلگ واقعہ معلوم ہوتا ہے اور فی الحال عوامی سلامتی کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے، تاہم تحقیقات مختلف زاویوں سے جاری ہیں۔ 26 دسمبر تک اس معاملے میں کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔
واقعہ کے بعد کئی طلبہ نے سوشل میڈیا پر کیمپس کے اطراف موجود جنگلاتی راستوں اور ٹریلز کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں پہلے بھی سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، مگر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
کینیڈا میں واقع ہندوستانی قونصل خانے نے 25 دسمبر کو اس واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ قونصل خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مقتول طالب علم کے اہلِ خانہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور مقامی حکام کے ساتھ تال میل کے ذریعے ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
ادھر طالب علم کی تعلیمی حیثیت سے متعلق مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ جہاں قونصل خانے نے انہیں ایک نوجوان ڈاکٹریٹ طالب علم قرار دیا، وہیں بعض مقامی ذرائع کے مطابق وہ یو ٹی ایس سی میں لائف سائنسز کے تیسرے سال کے طالب علم تھے۔ پولیس نے تاحال ان کی تعلیمی سطح سے متعلق حتمی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر کینیڈا میں زیرِ تعلیم بین الاقوامی طلبہ، خصوصاً ہندوستانی طلبہ کی سلامتی سے متعلق خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے اطراف سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کا اعادہ نہ ہو۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعہ سے متعلق کوئی بھی معلومات ہوں تو وہ فوراً حکام سے رابطہ کریں۔
