حیدرآباد 26 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک حیرت انگیز انکشاف میں پتہ چلا ہے کہ ٹولی چوکی کا ایک انجینئر اپنے خاندان کے ساتھ شام منتقل ہوگیا جہاںاس نے آئی ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ رپورٹس کے مطابق انجینئر نے شام میں آئی ایس لڑاکوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا اور 2018 میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا ۔ اس کے پسماندگان میں بیوہ اور چار بچے شامل ہیں۔ انجینئر کے افراد خاندان کا تعلق بھی ٹولی چوکی سے ہے اور وہ فی الحال شام میں ایک کیمپ میں مقیم ہیں اور حکومت سے ہندوستان واپسی کیلئے مدد کے خواہاں ہیں۔ یہ شخص سعودی عرب میں 2015 سے مقیم تھا ۔ بعد میں اس نے اپنی بیوی اور بچوں کو تفریح کیلئے پہلے دوبئی پھر ترکی لے گیا اور بالآخر شام جا پہونچا ۔ کچھ وقت کے بعد اس نے اپنے افراد خاندان کو ای میل کے ذریعہ مطلع کیا کہ وہ آئی ایس میں شامل ہوچکا ہے اور شام آگیا ہے ۔ یہ انجینئر کی جانب سے دی گئی آخری اطلاع تھی ۔ چند ماہ قبل اس کی بیوہ نے ٹولی چوکی میں افراد خاندان کو فون کیا اور تمام واقعات کی تفصیل بتائی اور ان سے کہا کہ اس کی بچوں کے ساتھ واپسی کیلئے مدد کی جائے ۔ انہیں دو بچے شام میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ دوسرا موقع ہے جب تلنگانہ کا کوئی فرد آئی ایس میں شامل ہوا اور لڑتے ہوئے ہلاک ہوگیا ۔ حال میں ایک انجینئر محمد حنیف منچریال سے تعلق رکھتا تھا وہ بھی آئی ایس میں شامل ہوا اور ہلاک ہوگیا ۔ ذرائع کے بموجب این آئی اے اور تلنگانہ پولیس کے کاونٹر انٹلی جنس شعبہ میں میاں بیوی کے رشتہ داروں کے تعلق سے تحقیقات کیں اور کچھ معلومات اکٹھا کی ہیں۔ یہ خاندان حیدرآباد سے تعلق رکھتا ہے اور دو دہوں تک سعودی عرب میں مقیم رہا تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد اس جوڑے کے والدین حیدرآباد واپس ہوگئے اور یہ شخص اور اس کی فیملی وہیں مقیم رہے ۔ بعد میں یہ جوڑا بچوں کے ساتھ شام منتقل ہوگیا تھا ۔