نئی دہلی ۔ 4فبروری (سیاست نیوز) سوشیل میڈیا نے عام شہریوں اور اپنے صارفین کو دنیا کے دیگر ممالک کے صارفین سے بہ آسانی جوڑنے اور اپنے خیالات کی سستی رسائی کا موقع فراہم کیا ہے جس کی وجہ سے اب سماج کا سب سے چھوٹا فرد تصور کیا جانے والا صارف بھی اپنی حرکات و خیالات سے دنیا کو واقف کروانے لگا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں متعارف کردہ ایک نئے ایک ’’ٹک ٹاک‘‘ نے تو حد کردی ہے کیونکہ یہ ایسی ایپ ہے جوکہ کسی بھی فرد، کسی بھی منظر اور کسی بھی واقعہ کو طنز و مزاحیہ کی صورت میں دوبارہ ناظرین کیلئے تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس نے ایک عام صارف کو بڑے بڑے قومی اور بین الاقوامی اسٹار کی نقل اتارنے اور اپنی مخفی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا آسان ذریعہ فراہم کردیا ہے۔ تاہم کچھ منچلے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس ایپ کے ذریعہ ایسے غیراخلاقی ویڈیوز بنا کر اپنا اور اپنی قوم کی شبیہہ بگاڑ چکے ہیں۔ ٹک ٹاک نے دراصل یہ ایپ ’’ہنسی بہترین علاج‘‘ کے مقصد کے تحت متعارف کیا تھا تاکہ کامیڈی کو ہندوستان میں فروغ دیا جاسکے اور اس کیلئے 7 تا 20 جنوری کامیڈی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ٹک ٹاک نے ایک چیلنج بھی پیش کیا تھا تاکہ ہندوستان کے تمام علاقوں سے کامیڈی کے باصلاحیت افراد کو منظرعام پر لایا جاسکے اور ٹک ٹاک کا یہ مقصد کامیاب بھی رہا کیونکہ اس کیلئے ایک ملین آڈیشن دیئے گئے ہیں۔ ٹک ٹاک کی جانب سے یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ یہ چھٹا سیزن رہا جس میں آڈیشن کئے گئے ہیں۔ ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں ہندی، تلگو، ملیالم، پنجابی کے علاوہ دکنی (حیدرآبادی زبان) کے ویڈیوز نے کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ٹک ٹاک کا دوسرا پہلو کافی تشویشناک ہے کیونکہ مسلم معاشرے کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنی صلاحیتیں اس ایپ کے ذریعہ ویڈیوز تیار کرنے میں ضائع کررہی ہیں جبکہ والدین کیلئے یہ ضروری ہوگیا ہیکہ وہ اپنے بچوں کی حرکتوں پر نہ صرف توجہ مرکوز کریں بلکہ ان کی صحیح رہنمائی بھی کریں۔