ٹڈی دَل نیم نہیں کھاتا ، اُسے مرغیوں کی پروٹین والی خوراک بنائیں

   

ٹڈیوں پرکنٹرول کے دیگر دیسی طریقے بھی موجود ، فصلیں بچائی جاسکتی ہیں

نئی دہلی،یکم جون (سیاست ڈاٹ کام) ہریالی کا دشمن مانے جانے والے اور اس کے وزن کے برابر روز اناج کھانے والے ٹڈی معدنی اوصاف سے بھرپور دھتورا، اکون اور نیم کے پتوں کو نہیں کھاتا ہے ۔ ٹڈیوں کو مرغیوں کے خوراک کیلئے پروٹین سے بھرپور کھانا بنایا جا سکتا ہے اور بہت سے دیگر دیسی طریقوں سے بھی ٹڈیوں کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔دھتورا، اکون اور نیم کے پتوں کا کاڑھا بنا اگر فصل پر اس کا اسپرے کیا جاتا ہے تو ٹڈی دل اس کھیت میں نہیں بیٹھنا چاہتا ہے ،اس سے فصلوں کا نقصان بھی نہیں ہو پاتا ہے ۔ بہار حکومت کے محکمہ زراعت نے ٹڈی دل کے ممکنہ حملے کو ذہن میں رکھ کر کسانوں کو اس کے کنٹرول کے کچھ دیسی اقدامات کے طریقے بتائے ہیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ کسان وقت سے پہلے دھتورا، اکون اور نیم کی پتیوں کا کاڑھا بنا کر رکھ لیں اور ضرورت پڑنے پر اس کا فصلوں پر چھڑکاؤ کریں۔ دھتورا کے پھل کے بیج بہت زیادہ نشہ آور ہوتا ہے اور اس کے پھول دیوتاؤں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ اکون بھی زہریلی ہوتی ہے اور اس کے پتے بہت موٹے ہوتے ہیں جنہیں جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے ۔ گھریلو ٹوٹکے سے علاج میں اس کے پتے کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ دھتورا اور اکون کے پیڑ پودے گاؤں دیہاتوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور نیم کے اوصاف تو اظہر من الشمس ہیں ہی۔ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ گھاس اور گھاس کو جلا دھواں کئے جانے سے بھی ٹڈی دل بھاگ جاتا ہے ۔ ڈھول، بگل اور شور مچانے سے تو ٹڈی دل مقام تبدیل کرنے پر مجبور ہوتا ہی ہے ، ٹڈیوں کے حملے کے دوران اگر پٹا خے چلائیں تو یہ متاثر کن ثابت ہوتا ہے اور وہ فصلوں کو نقصان نہیں پہنچا پاتے ۔ہندوستانی زرعی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زرعی ٹیکنالوجی انفارمیشن سینٹر کے چیف ٹیکنیکل آفیسر ہریش کمار نے بتایا کہ ٹڈیوں کے بچوں کو گہرے گڑھے میں کھود کر بھی روکا جا سکتا ہے ۔ اس کے چھوٹے بچے شروع میں اڑ نہیں پاتے ہیں بلکہ وہ رینگتے ہیں۔ اس دوران لوگوں کا گروپ ان کو گڑھے میں گرا سکتا ہے جس سے وہ نکل نہیں پاتے ہیں۔