نظر نظر سے کھیلتا ہوا چلے جو راہ میں
تم ایسے پیکر شباب سے شباب چھین لو
بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں اور مسلم ناموں کے خلاف مہم کا کوئی موقع گنوایا نہیں جا رہا ہے اور ایسی حرکتو ں کے ذریعہ تاریخ کے ساتھ کھلواڑ سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اب مہاراشٹرا میں ایک اسپورٹس کامپلکس کو ٹیپو سلطان کے نام سے موسوم کرنے پر بی جے پی اور بجرنگ دل کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنے کے خلاف انتباہ دیا جا رہا ہے ۔ کرناٹک میں بھی جہاں بی جے پی نے پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کیا تھا ٹیپو سلطان کے نام سے تقاریب کے انعقاد کو منسوخ کردیا گیا تھا ۔ ایسی حرکتوں کے ذریعہ بی جے پی در اصل ملک کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے مجاہدین کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور ان کی ہتک کی جا رہی ہے ۔ اس حقیقت سے سارا ملک بلکہ ساری دنیا اور خاص طور پر انگریزی سامراج واقف ہے کہ انگریزوں کے خلاف ایک تاریخی لڑائی اگر کسی نے لڑی تھی تو وہ ٹیپو سلطان تھے ۔ ٹیپو سلطان نے اس ملک پر انگریزی سامراج کو مستحکم ہونے سے روکنے کی حتی المقدور کوشش کی تھی اور انہوں نے اپنی جان کی بھی قربانی پیش کردی لیکن ملک کی آزادی کیلئے جدوجہد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا ۔ بی جے پی محض مسلم دشمنی میں ملک کی جدوجہد آزادی کے ہیروز کی ہتک اور توہین کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے ۔ وہ صرف ایک رخ پیش کرتے ہوئے عوام کو ورغلانے اور انہیں اشتعال دلانے کی کوششیں کر رہی ہے ۔ کسی بھی قیمت پر مسلم ناموں اور مسلم ہیروز کو برداشت کرنے تیار نہیں ہے ۔ نوجوانوں کے ذہنوں کو اس حد تک پراگندہ کردیا گیا ہے کہ وہ حقائق سے واقفیت حاصل کئے بغیر ہی تشدد پر اتر آ رہے ہیں۔ گودی میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں فتور اور زہر بھردیا گیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ مٹھی بھر جنون پسند افراد حقائق اور تاریخ سے بھی واقفیت حاصل کرنے کو تیار نہیں ہیں اور مسلم دشمنی میں حدوں کو پار کرنے لگے ہیں۔ انگریزی سامراج کو لوہے کے چنے چبوانے والے ٹیپو سلطان سے بی جے پی کی دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور اسی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اشتعال انگیزی سے کام لیا جا رہا ہے ۔
ممبئی میں احتجاج کرتے ہوئے اسپورٹس کامپلکس کا نام ٹیپو سلطان کے نام پر رکھنے کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ آیا وہ ٹیپو سلطان کی ستائش کرنے پر کیا صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند سے بھی استعفی کا مطالبہ کریگی ؟ ۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 2017 میں کرناٹک اسمبلی میں خطاب کے دوران ٹیپو سلطان کی ستائش کی تھی ۔ انہوں نے ٹیپو سلطان کو ایک تاریخی جنگجو اور ایک مجاہد آزادی قرار دیا تھا ۔ بی جے پی اس پر خاموش ہے اور محض فرقہ پرستانہ ذہنیت کی وجہ سے شور شرابہ کرنے پر اتر آئی ہے ۔ جب ملک کے صدر جمہوریہ نے ہی ٹیپو سلطان کو ایک تاریخی جنگجوا ور مجاہد آزادی قرار دیا ہے تو بی جے پی کو ان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی فرقہ پرستانہ ذہنیت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ بی جے پی کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ ٹیپو سلطان ایک حقیقی مجاہد آزادی تھے اور تاریخی جنگجو تھے ۔ انہوں نے ملک کی آزادی کیلئے جو قربانیاں پیش کی تھیں وہ بھی مثالی ہیں اور آج تک ان کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی ۔ انہوں نے انگریزوں کو قدم جمانے سے روکنے کیلئے مسلسل جدوجہد کی تھی اور آخری سانس تک اس جدوجہد میں خود شامل رہے اور بالآخر کچھ غداروں کی سازشوں کے نتیجہ میں انہوں نے اپنی جان تک قربان کردی ۔ یہ ہندوستان کی مستند تاریخ ہے اور اس کو عوام میں پیش کرنے سے بی جے پی گریز کرتی ہے اور جھوٹے اور فرضی حوالے پیش کرتے ہوئے انہیں ورغلایا جاتا ہے ۔
حقیقی تاریخ سے نوجوانوں اور آئندہ نسل کو واقف کروانے کی بجائے بی جے پی اپنے من گھڑت انداز میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے ذہنوں کو پراگندہ کرنے پر اتر آئی ہے جو انتہائی افسوسناک پہلو ہے ۔ ملک کے صدر جمہوریہ خود نے ٹیپو سلطان کو مجاہد آزادی قرار دیا ہے تو ان کے نام کے خلاف احتجاج کرنا در اصل مجاہدین آزادی کی توہین کرنا ہے ۔ اس طرح کی حرکتوں سے بی جے پی کو باز آجانے کی ضرو رت ہے ۔ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور فرقہ وارانہ جنون پیدا کرنے سے باز آجانا چاہئے ۔
