ٹیچرس کی 11 ہزار جائیدادوں کیلئے 18 جولائی سے ڈی ایس سی امتحانات: بھٹی وکرامارکا

   

مزید 5 ہزار جائیدادوں کیلئے عنقریب دوسرا ڈی ایس سی، احتجاج ترک کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کی خواہش
حیدرآباد۔/14 جولائی، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے طلباء اور نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے تابناک مستقبل کیلئے حکومت کی جانب سے تقررات کی مہم میں تعاون کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈی ایس سی اور گروپ امتحانات مقررہ شیڈول کے مطابق ہوں گے اور حکومت نے عنقریب مزید تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ بیروزگار نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے حکومت نے ابتدائی تین ماہ میں 30 ہزار جائیدادوں پر تقررات کے احکامات جاری کئے اور باقی مخلوعہ جائیدادوں کی بھرتی کے معاملہ میں حکومت سنجیدہ ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کا حصول جائیدادوں کے مسئلہ پر جدوجہد کے ذریعہ ہوا ہے۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے فوری بعد 16 ہزار ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی۔ ٹیچرس کی 11 ہزار جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19717 اساتذہ کو ترقی دی گئی اور 34 ہزار اساتذہ کے تبادلے کئے گئے۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ 11 جولائی سے ڈی ایس سی امتحانات کے ہال ٹکٹس جاری کئے جارہے ہیں۔ چند ماہ سے امیدوار ڈی ایس سی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔18 جولائی سے 5 اگسٹ تک امتحانات کا انعقاد عمل میں آئے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ بعض امیدوار ریکروٹمنٹ امتحانات ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا منظم کررہے ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے گذشتہ دس برسوں میں ایک مرتبہ بھی گروپ I امتحان منعقد نہیں کیا۔ گروپ II امتحانات تین مرتبہ ملتوی کئے گئے جو کہ طلبہ کے حق میں نہیں ہیں۔ کانگریس حکومت مخلوعہ جائیدادوں پر جلد تقررات کے ذریعہ بیروزگار نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹل ویلفیر کے تحت 581 جائیدادوں کیلئے امتحان منعقد کیا گیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ مجوزہ ڈی ایس سی امتحان آخری نہیں ہے بلکہ عنقریب 5 تا 6 ہزار جائیدادوں کے ساتھ دوسرا ڈی ایس سی منعقد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 11 ہزار ٹیچرس کی جائیدادوں پر عنقریب بھرتی کرے گی۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں کو یقین دلایا کہ تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کے نتیجہ میں طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے 10 برسوں میں گروپI ، گروپ II اور ڈی ایس سی امتحانات منعقد نہ کرتے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت جاب کیلنڈر جاری کرنے کی تیاری کررہی ہے تاکہ عوام سے کئے گئے وعدہ کے مطابق تقررات عمل میں لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے الیکشن سے عین قبل ستمبر میں ڈی ایس سی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے تحت 175527 درخواستیں داخل کی گئیں۔ کانگریس حکومت نے ڈی ایس سی نوٹیفکیشن کو ری شیڈول کرتے ہوئے جائیدادوں کی تعداد کو 5 ہزار سے بڑھا کر مزید 6 ہزار کے ساتھ جملہ 11 ہزار کردیا ہے۔ تازہ ترین نوٹیفکیشن کے تحت 2.79 لاکھ امیدواروں نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ 2 لاکھ 5 ہزار امیدواروں نے ہال ٹکٹ ڈاون لوڈ کرلئے ہیں۔ طلبہ کے مسائل کی یکسوئی کیلئے 24 گھنٹے کام کرنے والا شکایتی سیل قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 ہزار ٹیچرس کے تقررات کے باوجود مزید 5 ہزار جائیدادیں مخلوعہ رہیں گی۔ حکومت 5 ہزار جائیدادوں اور بعض دیگر مخلوعہ جائیدادوں کیلئے ایک اور ڈی ایس سی منعقد کرے گی۔ بیروزگار نوجوانوں کو الجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت آپ کے ساتھ ہے اور وعدہ کے مطابق تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ احتجاج ترک کرکے تقررات میں حکومت سے تعاون کریں۔1