ٹی آر ایس سے خوشحالی بی جے پی سے بدحالی

   

کیا چاہئے عوام یکم ؍ ڈسمبر کوفیصلہ کریں۔ ٹی ہریش راؤ

حیدرآباد : ریاستی وزیرفینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ آزمائش کی گھڑی آ گئی ہے۔ آپ کا ایک ایک ووٹ خوشحالی اور بدحالی کی قسمت لکھے گا۔ آپ کیا چاہتے ہیں یہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ٹی آر ایس کے 6 سالہ دورحکومت اور بی جے پی کے 6 سالہ دورحکومت کا تقابل کریں، پھر فیصلہ کریں۔ پٹن چیرو ڈیویژن میں منعقدہ ٹی آر ایس کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس ترقی اور فلاح و بہبود کو ایجنڈہ بنا کر ووٹ مانگ رہی ہے جبکہ بی جے پی مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہوئے زہر اگل رہی ہے۔ انتخابات بٹوارہ نہیں بلکہ مقابلہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو وہ کامیاب ہونے پر کیا کرنا چاہتے ہیں وہ بتانا ہوتا ہے۔ رائے دہندوں کو جس پارٹی کا ایجنڈہ پسند ہوتا ہے وہ اس کو ووٹ دیتے ہیں۔ ابھی تک ریاست میں پرامن ماحول میں انتخابات ہوئے ہیں لیکن اس مرتبہ جی ایچ ایم سی انتخابات کو جنگ کے میدان میں تبدیل کرچکی ہے۔ بی جے پی کے قومی قائدین اور مرکزی وزراء حیدرآباد کا رخ کررہے ہیں مگر سب خالی ہاتھ آرہے ہیں۔ حیدرآباد اور ریاست کی ترقی کیلئے کوئی پیاکیج نہیں لارہے ہیں یہاں تک کہ سیلاب کے متاثرین کو بھی امداد دینا گوارہ نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک پرانے شہر پر نہیں بلکہ غربت، بیروزگاری پر کی جانی چاہئے۔ بی جے پی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کا زہر گھول رہی ہے۔ بی جے پی کی تاریخ سے عوام اچھی طرح واقف ہے۔ جب حالت پرامن ہو تو ہی ترقی ممکن ہے۔ سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی انتخابی میدان سے راہ فرار اختیار کرچکی ہے۔