بی جے پی کا خواب ادھورا ،10 ہزار ووٹوں کی ریکارڈ اکثریت ،کانگریس کی ضمانت ضبط
حیدرآباد۔/6 نومبر، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس نے نلگنڈہ منوگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں شاندار کامیابی حاصل کرکے بی جے پی کو کراری شکست دی۔ ضمنی چناؤ ٹی آر ایس اور بی جے پی کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکا تھا اور دونوں پارٹیوں نے انتخابی مہم میں اپنی طاقت کو جھونک دیا۔ بی جے پی تلنگانہ میں قدم جمانے کا منصوبہ بنارہی ہے اور کانگریس سے مستعفی راجگوپال ریڈی کو پارٹی میں شامل کرکے ضمنی چناؤ میں کامیابی کا خواب دیکھا گیا۔ قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف کے سی آر نے پارٹی امیدوار کی کامیابی کو یقینی بناکر ریاست میں اپنا تسلط برقرار رکھا ہے۔ ضمنی چناؤ کی رائے شماری آج صبح 8 بجے سے شروع ہوئی اور ہر راؤنڈ کا نتیجہ دونوں پارٹیوں کیلئے تجسس کا باعث رہا۔ 15 راؤنڈ کے بعد ٹی آر ایس امیدوار پربھاکر ریڈی نے 10,113 ووٹوں کی اکثریت سے بی جے پی امیدوار کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کو شکست دے دی ۔ آخری راؤنڈ کی گنتی کے بعد ٹی آر ایس امیدوار پربھاکر ریڈی کو 96598 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوار راجگوپال ریڈی کو 86485 ووٹ ملے۔ کانگریس امیدوار پی شراونتی کو 23864 ووٹ حاصل ہوئے۔ مقابلہ کی تیسری فریق کانگریس امیدوار پی شراونتی توقع کے مطابق ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور ان کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ اس طرح منوگوڑ اسمبلی نشست پر ٹی آر ایس نے قبضہ کرلیا جو کانگریس کا مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا تھا۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان ووٹوں کی گنتی کے دوران ایک، ایک ووٹ کیلئے زبردست رسہ کشی دیکھی گئی۔ 482ووٹرس نے ’نوٹا‘ کے حق میں ووٹ دیا۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے جاری کردہ قطعی اعداد و شمار کے مطابق 15 راؤنڈز میں تیسرے اور چوتھے راؤنڈ کے علاوہ آخری راؤنڈ میں بی جے پی کو معمولی سبقت رہی جبکہ باقی تمام راؤنڈز میں ٹی آر ایس نے سبقت کو برقرار رکھا۔ 15 راؤنڈ میں 10 راؤنڈ تک ٹی آر ایس کو معمولی اکثریت برقرار رہی جبکہ گیارہویں راؤنڈ کے بعد سے اکثریت میں اضافہ ہوا، اور گنتی اختتام تک اکثریت 10 ہزار سے تجاوز کرگئی۔ بی جے پی کو دوسرے اور تیسرے راؤنڈ میں معمولی سبقت رہی۔ کانگریس امیدوار شراونتی نے اگرچہ سینئر قائدین کے ساتھ انتخابی مہم چلائی تھی لیکن انہیں صرف 22449 ووٹ ملے ۔ راجگوپال ریڈی کے کانگریس سے استعفی کے بعد کانگریس نے اس نشست کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔ منوگوڑ ضمنی چناؤ کے نتیجہ پر تلگو ریاستوں کے علاوہ ملک کی نظر تھی کیونکہ بی جے پی کی قومی قیادت نے اس حلقہ میں انتخابی مہم چلائی تھی۔ 2018 اسمبلی انتخابات کے بعد متحدہ نلگنڈہ ضلع میں یہ تیسرا ضمنی چناؤ ہے۔ حضورنگر کے ضمنی چناؤ میں کانگریس امیدوار اتم کمار ریڈی کی اہلیہ پدماوتی کو ٹی آر ایس امیدوار سیدی ریڈی نے 43359 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ ناگرجنا ساگر حلقہ میں سابق رکن اسمبلی نرسمہیا کے فرزند این بھگت نے 18804 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ منوگوڑ متحدہ نلگنڈہ ضلع کا تیسرا ضمنی چناؤ تھا جس میں ٹی آر ایس نے نشست چھین لی ۔ ریاست میں دوباک و حضورآباد کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو کامیابی ملی ۔ ٹی آر ایس نے منوگوڑ میں 80 سے زائد ارکان اسمبلی و وزراء کو منڈلوں کا انچارج مقرر کیا تھا۔ چیف منسٹر کے سی آر لنکالہ پلی گاؤں کے انچارج تھے اور وہاں ٹی آر ایس کو 254 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی۔ر