پانچ ریاستوں کے نتائج کے بعد کی صورتحال پر غور۔ بی جے پی بھی کرناٹک و مدھیہ پردیش میں جلد انتخابات کی خواہاں
حیدرآباد۔13مارچ(سیاست نیوز) جاریہ سال کے اواخر میں گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے ساتھ بی جے پی کرناٹک اور مدھیہ پردیش انتخابات کے انعقاد کا جائزہ لے رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ بی جے پی کی اس مصروفیت کا فائدہ حاصل کرنے ڈسمبر 2023 کی بجائے ڈسمبر 2022میں انتخابات کے حالات پیدا کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تلنگانہ میں عاجلانہ انتخابات کی متعدد پیش قیاسیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جبکہ ٹی آر ایس کی جانب سے بی جے پی کی اترپردیش کے علاوہ اتراکھنڈ ‘ گوا کے ساتھ منی پورمیں کامیابی کے بعد اپنے منصوبہ پر از سرنو غور کیا جانے لگا ہے۔ اترپردیش اور دیگر تین ریاستوں میں کامیابی کے سبب پیدا ماحول کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی جانب سے ہماچل پردیش اور گجرات کے ساتھ مدھیہ پردیش و کرناٹک کے انتخابات کے انعقاد پر غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ جو لہر اترپردیش اور دیگر تین ریاستو ںمیں کامیابی کے بعد چلی ہے اس کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات جاریہ سال ماہ نومبر میں ہونے ہیں جبکہ گجرات میں ڈسمبرمیں انتخابات کروائے جانے ہیں مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کی معیاد نومبر 2023 میں مکمل ہونے والی ہے لیکن اگر بی جے پی حکومت قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کی راہ ہموار کرتی ہے تو گجرات و ہماچل پردیش کے ساتھ انتخابات کروائے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ریاست کرناٹک میں موجودہ اسمبلی کی معیاد مئی 2023میں ختم ہونے والی ہے لیکن حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے موجودہ حالات کا فائدہ اٹھانے قبل از وقت انتخابات کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے تو کرناٹک میں بھی 2022 ڈسمبر میں گجرات کے ساتھ انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکتا ہے۔ اترپردیش کے علاوہ گوا‘ اتراکھنڈ ‘ منی پور میں بی جے پی کی کامیابی کے ساتھ ہی بی جے پی قائدین نے ان پر غور کرنا شروع کردیا ہے اور اترپردیش کے انتخابی نتائج کے دوسرے ہی دن گجرات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگرامس کو کافی سیاسی اہمیت دی جانے لگی ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ بی جے پی نے تلنگانہ میں بھی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آئندہ سال جن ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں ان میں تریپورہ ‘ میگھیالیہ‘ ناگالینڈ‘ کرناٹک ‘ چھتیس گڑھ ‘ مدھیہ پردیش ‘ میزورم ‘ راجستھان اور تلنگانہ شامل ہیں۔ تلنگانہ میں قبل از وقت انتخابات کے منصوبہ کا از سر نو جائزہ لیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جو کہ ریاست میں بی جے پی کو مستحکم بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔م