حیدرآباد۔20۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارتیہ راشٹرا سمیتی میں تبدیل کرنے کے فیصلہ اور قومی سطح پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے اعلان کے باوجود کسی طرح کی سرگرمیوں میں شامل نہ ہونے پر پارٹی قائدین پھر سے شبہات میں مبتلاء ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد ملک کی دو ریاستوں میں انتخابات کا اعلان ہوا ہے اور ایک میں رائے دہی مکمل ہونے کے باوجود بھی ٹی آر ایس کی کوئی حکمت عملی یا منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی ہے جبکہ آئندہ سال کے اوائل میں پڑوسی ریاست کرناٹک میں انتخابات ہونے ہیں ۔ اس سلسلہ میں بھی پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں دیکھی جا رہی ہے ۔ ہماچل پردیش میں رائے دہی ہوچکی ہے اور انتخابات میں حصہ نہ لینے کے علاوہ ووٹرس کیلئے ٹی آر ایس کی جانب سے کوئی اپیل جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کی تائید کی گئی اسی طرح گجرات میں انتخابات کاعمل شروع ہوچکا ہے اور ٹی آر ایس نے گجرات میں بھی کسی قسم کی پیشرفت نہیں کی اور نہ ہی کسی کی تائید کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کرناٹک میں بھی بھارتیہ راشٹر سمیتی کی کوئی سرگرمیاں نظر آرہی ہیں۔ گجرات میں بی آر ایس سابق چیف منسٹر شنکر سنگھ واگھیلا کے ذریعہ اپنا اثر دکھانے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن کوئی پیشرفت نہ ہونے کے بعد اب ٹی آر ایس قائدین بی آر ایس کے اعلان کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں جبکہ پارٹی سے ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے کا صحافتی اعلامیہ جاری کیا جاچکا ہے ۔ اس کے باوجود پارٹی قائدین کا ماننا ہے کہ بی آر ایس کی تین ریاستوں میں انتخابات کے معاملہ میں مکمل خاموشی کے سبب اب یہ کہنا دشوار ہوتا جا رہاہے کہ ٹی آر ایس قومی سیاست میں حصہ لے گی۔ سرکردہ قائدین کا کہنا ہے کہ اگر بی جے پی کا قومی سطح پر مقابلہ کرنا ہے تو ٹی آر ایس کو مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں بھی اپنے وجود کو منوانا پڑے گا اور اگر عام انتخابات میں ہی بی آر ایس کو قومی سطح پر روشناس کروانا بھی ہے تو مختلف ریاستوں میں پارٹی قائدین کے دوروں کے ذریعہ ووٹر کی ذہن سازی کرنی ہوتی ہے لیکن ٹی آر ایس قیادت کی جانب سے تاحال اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے جو کہ پارٹی کے قومی سیاست میں عزائم کے متعلق قائدین میں ہی شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے اور چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ اور سرکردہ قائدین صورتحال سے بخوبی واقف ہیں۔