ٹی آر ایس کیلئے نوشتہ دیوار

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی حضور آباد میں بی جے پی کے ٹکٹ پر ایٹالہ راجندر نے شاندار کامیابی حاصل کرلی ۔ انہو ں نے برسر اقتدار ٹی آر ایس کے امیدوار جی سرینواس یادو کو 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے شکست سے دوچار کرتے ہوئے ثابت کردیا کہ رائے دہندے صرف اعلانات یا اقتدار کی طاقت کے ساتھ ہی نہیں جاتے بلکہ بسا اوقات وہ کارکردگی کی بنیاد پر بھی پسندیدہ امیدوار کا انتخاب عمل میں لاتے ہیں۔ حضور آباد حلقہ میں ایٹالہ راجندر کی سیاسی طاقت کا آج کے نتائج سے واضح اندازہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے ٹی آر ایس کی چھ ماہ سے جاری انتخابی مہم کے باوجود ایک طرح سے تن تنہا جدوجہد کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے اور انہوں نے یہ ثابت کردیا کہ ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راو کو کارکردگی اور خدمات کی بنیاد پر شکست دی جاسکتی ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے گذشتہ چھ ماہ سے انتخابی مہم چلائی جا رہی تھی ۔ جس وقت سے ایٹالہ راجندر نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کیا اور بی جے پی میںشامل ہوئے اسی وقت سے ٹی آر ایس نے حلقہ میںاپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا ۔ ٹی آر ایس میں ٹربل شوٹر سمجھے جانے والے وزیر فینانس ٹی ہریش راو نے یہاں انتخابی مہم کی کمان سنبھالی تھی اور انہوں نے ہر ممکن کوشش کرنے اور بی جے پی کی مسلسل تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے پارٹی کو کامیابی دلانے کی جدوجہد کی لیکن کے سی آر کے طرز کارکردگی کو حلقہ کے رائے دہندوں نے قبول نہیں کیا اور انہوں نے ایٹالہ راجندر کی نمائندگی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ساری طاقت جھونک دینے اور دلت بندھو جیسی اسکیم کا بھی حضور آباد سے آغاز کرنے کے باوجود حلقہ میں پارٹی کو شکست ہوگئی ۔ اس صورتحال میں ٹی آر ایس کیلئے حالات کو سمجھنے کا وقت آگیا ہے ۔ یہ شکست اس کیلئے نوشتہ دیوار ہے ۔ اسے ایک بار پھر اپنی کارکردگی اور خاص طور پر طرز کارکردگی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ سمجھ لیا جانا چاہئے کہ صرف میڈیا میں ایک طرح سے ہوا کھڑا کرتے ہوئے رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ہمیشہ ہی کامیاب نہیںہوا کرتیں۔
ریاست میں گذشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد سے اسمبلی کے چار ضمنی انتخاب ہوئے ہیں جن میں ٹی آر ایس کو دو پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور بی جے پی نے بھی دوسری نشست پر آج قبضہ کرلیا ہے ۔ حالانکہ یہ کامیابی بی جے پی کی نہیں بلکہ زیادہ تر ایٹالہ راجندر کی شخصیت کی مرہون منت ہے لیکن گنتی تو بی جے پی کی ہی ہوگی ۔ ایٹالہ راجندر کی شخصی مقبولیت نے حلقہ میں کے سی آر کی کاوشوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ حالانکہ کے سی آر خود انتخابی میدان میں عملا نہیں آئے تھے لیکن پس پردہ ساری مہم پر انہوں نے نگرانی رکھی تھی اور انتخابی مہم کے ذمہ دار وزراء اور قائدین کو مسلسل ہدایات دے رہے تھے ۔ طرح طرح کے سروے کروائے جا رہے تھے ۔ حلقہ میں پیسے کی طاقت جھونک دی گئی تھی ۔ ایک ایک ووٹ کیلئے ہزاروں روپئے خرچ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ۔ اس کے باوجود انہیں کامیابی نہیں ملی ۔ ایسا نہیں ہے کہ بی جے پی امیدوار نے پیسہ خرچ نہیں کیا انہوں نے بھی پیسے کا بے دریغ استعمال کیا ہے لیکن جو طاقت ٹی آر ایس نے جھونکی تھی اور اس کے تین وزراء اور کئی قائدین وہاں سرگرم تھے اس کے باوجود اسے عوام نے مسترد کردیا ۔ ایسے وقت میں جبکہ ریاست میں ٹی آر ایس اقتدار کی دوسری معیاد کے تین سال مکمل ہونے والے ہیں اس طرح کی شکست پارٹی کیلئے تشویش کا باعث ہے ۔ پارٹی کو اپنے کارکنوں اور کیڈر کو اعتماد میںلینے کے ساتھ ساتھ عوام کی نبض کو بھی سمجھنے اور اس کے مطابق حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ٹی آر ایس میں اقتدار غیر مرکوز نہیں ہے ۔ صرف کے سی آر یا ان کے افراد خاندان ہی با اختیار ہیں ۔ سینئر قائدین اور وزراء کو بھی اہمیت نہ دینے کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب جبکہ حضور آباد میں ساری طاقت جھونک دئے جانے کے باوجود پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے پارٹی کو اور خاص طور پر کے چندر شیکھر راو کو اپنے طرز کارکردگی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کی نبض کو سمجھنے کی اور عوام کا اعتماد دوبارہ جیتنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ بی جے پی کی جو کامیابی ہے وہ عارضی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ یہ کامیابی پارٹی سے زیادہ شخصیت کی ہے اور اس کاسہرا ایٹالہ راجندر کے سر جاتا ہے ۔