ٹی آر ایس اور بی جے پی ناگرجنا ساگر حلقہ کے امیدوار کے انتخاب میں مصروف

   

چیف منسٹر نے آنجہانی رکن اسمبلی کے فرزند کی تائید کی، بی جے پی کو مضبوط امیدوار کی تلاش
حیدرآباد: ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے لئے الیکشن کمیشن سے شیڈول کی اجرائی کے فوری بعد ٹی آر ایس اور بی جے پی نے امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں سرگرم مشاورت شروع کردی ہے۔ کانگریس نے اس حلقہ کیلئے پہلے ہی جانا ریڈی کے نام کا اعلان کردیا ہے ۔ ٹی آر ایس کو امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں مقامی قائدین میں اختلاف رائے کے سبب دشواری ہورہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر آنجہانی رکن اسمبلی این نرسمہیا کے فرزند این بھرت کو ٹکٹ دینے کے حق میں ہے۔ ہمدردی کی لہر کے ساتھ ساتھ اگر دونوں طبقات کی تائید حاصل ہوتی ہے تو ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی آسان ہوجائے گی ۔ الیکشن کمیشن نے 17 اپریل کو رائے دہی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ٹی آر ایس کے مقامی قائدین دوباک کے تجربہ کے پس منظر میں نرسمہیا کے فرزند کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔ چیف منسٹر ضلع سے تعلق رکھنے والے وزراء اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کریں گے۔ دوسری طرف بی جے پی دوباک کی طرح دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے 2018 ء اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرنے والی نویدیتا ریڈی کو دوبارہ ٹکٹ دینے پر غور کر رہی ہے ۔ انہیں گزشتہ انتخابات میں محض 2600 ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ بی جے پی کو یقین ہے کہ ریاست میں پارٹی کے حق میں عوامی تائید کا ناگرجنا ساگر میں فائدہ ہوگا۔ ناگرجنا ساگر میں بی جے پی کی غیر معمولی طاقت نہیں ہے ، باوجود اس کے وہ سخت مقابلہ کے بارے میں پرامید ہیں۔ پارٹی نے مقامی قائدین سے مشاورت کی ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد امیدوار کے نام پر اتفاق رائے پیدا ہوگا۔ بی جے پی نے ابتداء میں کانگریس کے رکن اسمبلی راج گوپال ریڈی کو ٹکٹ کا پیشکش کیا تھا لیکن انہوں نے کانگریس میں برقرار رہنے کا فیصلہ کیا ۔ مبصرین کے مطابق ایم ایل سی گریجویٹ نشستوں کے نتائج کا ناگرجنا ساگر الیکشن پر اثر ضرور پڑے گا۔