تیرے رنگین تصور کا سہارا لیکر
ہم خزاں کو بھی بہاروں کا زمانہ سمجھے
ملک کی پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہا ہے ۔ ملک اور عوام کو درپیش انتہائی اہمیت کے حامل اور سنگین نوعیت کے مسائل پر اجلاس میں تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے ۔پارلیمنٹ مانسون سشن کے آعاز سے قبل حکومت کی جانب سے کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی پرسکون انداز میں چلانے کیلئے اپوزیشن سے تعاون طلب کیا گیا تھا ۔ ساتھ ہی حکومت نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ تمام اہمیت کے حامل مسائل پر ایوان میں مباحث کیلئے حکومت تیار ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنی مرضی کے مسائل کو ہی ایوان میں پیش کیا جا رہا ہے اورا پوزیشن کی جانب سے پیش کئے جانے والے اہمیت کے حامل مسائل پر مباحث سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ مسائل سے فرار اختیار کیا جا رہا ہے ۔ فی الحال کسانوں کا احتجاج ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ کسانوں نے کورونا کی دوسری لہر سے قبل بھی بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا تھا ۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران اس احتجاج کی شدت کو کم کردیا گیا تھا یہ احتجاج ختم نہیں ہوا تھا ۔ اب اس میں ایک بار پھر شدت پیدا کی جا رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مباحث کئے جائیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس پر تیار نہیں ہے ۔ وہ دوسرے ہی کچھ امور پر ایوان میں ضابطہ کی تکمیل کرنا چاہتی ہے ۔ اپوزیشن اور کسانوں کے سوالات کے جواب دینے کیلئے حکومت تیار نظر نہیں آتی ۔ کسانوں کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ کئی ماہ کے عرصہ سے کسان احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مرکز نے تین زرعی قوانین جو تیار کئے ہیں انہیں واپس لیا جائے ۔ حکومت ہر مسئلہ کو اپنے ڈھنگ سے پیش کرنے میںمصروف ہے اور مسائل کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے کیلئے بھی تیار نظر نہیں آتی ۔ حکومت اکثریت کے زعم میں مبتلا ہے اور اپنی طاقت کے بل پر کسی کے احتجاج کی پرواہ کرنے تیار نہیںہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ جو کچھ بھی وہ فیصلے کرے اس پر سارا ملک خاموشی سے عمل کرلے ۔ تاہم جمہوریت میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ حکومت کو سبھی گوشوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
اپوزیشن جماعتوں کا اصرار ہے کہ پارلیمنٹ میں پیگاسیس جاسوسی مسئلہ پر بھی مباحث کئے جائیں۔ یہ بھی انتہائی سنگین نوعیت اور حساس اور اہمیت کا حامل مسئلہ ہے ۔ حکومت نے اس اہم ترین مسئلہ پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت کی ہے ۔ ایک مبہم سا جواب دیتے ہوئے حکومت بری الذمہ ہونا چاہتی ہے یا پھر اس مسئلہ سے ملک اور عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر حکومت سے چبھتے ہوئے سوال پوچھ رہی ہیں اور شائد نریندر مودی حکومت ان سوالات کے جواب بھی دینے کے موقف میں نہیں ہے یا پھر وہ جواب دینا ہی نہیںچاہتی ۔ ہندوستان میں سیاسی قائدین ‘ صحافیوں ‘ وزراء اور ججس وغیرہ تک کی جاسوسی کی جا رہی ہے ۔ یہ کوئی غیر اہم مسئلہ نہیں ہے۔ جاسوسی کسی بھی فرد کی پرائیویسی میں غیر مجاز مداخلت ہے ۔ اس پر بھی اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ پارلیمنٹ میں تفصیلی مباحث ہوں۔ حکومت ہر سوال کا اطمینان بخش جواب دے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ سات اپوزیشن جماعتوں نے صدر جمہوریہ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دینے کی خواہش کی ہے کہ ان مسائل پر پارلیمنٹ میں مباحث کئے جائیں۔ اپوزیشن قائدین کا کہنا ہے کہ کسان اپنے احتجاج کے دوران فوت ہوئے ہیں لیکن حکومت کو ان کی پرواہ نہیں ہے اور پیگاسیس کے ذریعہ جاسوسی کی گئی ہے اور اس پر بھی حکومت مباحث کیلئے تیار نظر نہیں آتی ۔
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے سوالات کے جواب دینے اور اہمیت کے حامل مسائل پر مباحث کیلئے آگے آنے کی بجائے بی جے پی عوام کو گمراہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی ارکان پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ عوام میں جائیں اور یہ پیام دیں کہ کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں کورونا اور ٹیکہ اندازی جیسے مسائل پر مباحث کا موقع نہیں دے رہی ہیں۔ یہ در اصل عوام کو اصل مسائل سے گمراہ کرنے کی کوشش ہے اور پارلیمنٹ اور اپوزیشن کے چبھتے ہوئے سوالات سے فرار ہے ۔ حکومت کو پارلیمنٹ اور اپوزیشن کا سامنا کرنا چاہئے اور جو مسائل ہیں ان پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے ۔
