چار دن کی تعطیل کے بعد 15مارچ سے سیشن کا دوبارہ آغاز ، اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کارروائی روک دینے اپوزیشن کا زور
نئی دہلی : پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ہے ، بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ جیسے ہی شروع ہوا ایوان میں ہنگامہ آرائی اور احتجاجی مظاہروں کے دوران تین دن ضائع ہوگئے ۔ جمعرات کو مہا شیوراتری کی تعطیل کے بعد چار دن کیلئے کارروائی روک دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اب یہ بجٹ سیشن پیر 15مارچ سے دوبارہ شروع ہوگا ۔ بجٹ سیشن میں دونوں ایوان کے اندر کوئی کام کاج نہیں ہوا پہلے تین دن ہنگامہ آرائی دیکھی گئی ۔ راجیہ سبھا چیرمین اور لوک سبھا اسپیکر نے ارکان کی خواہش پر 12مارچ کی کارروائی منسوخ کردی ۔ مزید جمعہ کے دن کی کارروائی خانگی ارکان کے بلوں کیلئے مختص ہوتی ہے اس میں حکومت کا کوئی ایجنڈہ شامل نہیں ہوتا ۔ لہذا جمعہ کے دن بھی کوئی کام نہیں ہوگا ۔ عام طور پر پارلیمنٹ کی کارروائی ہفتہ کے آخری دن بھی نہیں ہوتی ۔ اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں 15مارچ سے ہی سیشن کا آغاز ہوگا ۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں میں چار ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقہ میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بجٹ سیشن کو روک دینے کی خواہش ظاہر کی ہے اس لئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی چار دن کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ پارلیمنٹ سیشن کے دوسرے حصہ میں بھی اپوزیشن پارٹیوں نے پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ، تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج جیسے مسائل کو اٹھاکر ایوان میں حکومت سے جواب طلب کررہی تھی ۔ اس لئے ایوان کی کارروائی میں مسلسل رکاوٹ پیدا ہوئی ۔ چیرمین راجیہ سبھا وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ آیا آپ کارروائی چلنے دینا چاہتے ہیں یا نہیں ! اگر کارروائی روک دینا ہے تو اس کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے ایوان کی کارروائی ملتوی کر کے قاعدہ 267 کے تحت کسانوں کے احتجاج پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا ۔وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کسانوں کے مسائل پر پہلے ہی وسیع تر بحث ہوچکی ہے ۔ پارلیمنٹ بجٹ سیشن کے پہلے حصہ میںکسانوں کے مسائل پر بات چیت کی جاچکی ہے ۔ اب زراعت اور کسانوں کے بہبود پر چار گھنٹے کی بحث آئندہ مقرر کی گئی ہے ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان نے اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاج کے باعث اہم بلوں پر مباحث نہیں ہوسکے ۔