پارلیمنٹ اجلاس کو شیڈول سے ایک دن قبل آج ہی ختم کردیا گیا ۔ راجیہ سبھا کے صدر نشین ایم وینکیا نائیڈو اور لوک سبھا کے اسپیکراوم برلا نے دونوںایوانوںکے اجلاس کو ایک ایک دن قبل ہی ختم کردینے کا اعلان کردیا ۔ پارلیمنٹ اجلاس 29 نومبر سے شروع ہوا تھا اور اسے 23 ڈسمبر تک کام کرنا تھا تاہم اسے شیڈول سے ایک دن قبل ہی ختم کردیا گیا ۔ ویسے تو پارلیمنٹ میں اکثر و بیشتر ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی ہے اور اپوزیشن جماعتوںکے ارکان حکومت کو توجہ دلانے کیلئے احتجاج بھی کرتے ہیں۔ حکومت ان ارکان کی تشویش اورسوالات کی سماعت کرتے ہوئے انہیں تشفی بخش جواب دیتی ہے ۔ تاہم حالیہ برسوں میںدیکھا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوںہی ایوانوںمیںمن مانی انداز سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ اصولوںاور قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اکثریت کے زور پر کارروائی چلائی جا رہی ہے ۔ اپوزیشن کے احتجاج اور ان کی ہنگامہ آرائی کو خاطر میں لانے کیلئے حکومت تیار نہیںہے ۔ وہ من مانی انداز میں ایوان کی کارروائی چلا رہی ہے ۔ حکومت انتہائی اہمیت کے حامل مسائل پر بھی ایوان میں مباحث کروانے تیار نہیں ہے اور نہ ہی ان پر اپوزیشن کا سامناکرنے کو راضی ہے ۔ وہ صرف ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے ندائی ووٹ سے چند منٹوںیا چند گھنٹوں میں انہیں منظوری دلانے میں ہی دلچسپی رکھتی ہے ۔ ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت کی یہ روایت رہی ہے کہ ایوان میں بلوںکو پیش کیا جاتا ہے ۔ ان پر سیر حاصل مباحث کئے جاتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے ترامیم اور تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ پارلیمانی کمیٹیاں ان کا جائزہ لیتی ہیں اور پھر انہیں ایوان میںمنظوری دلائی جاتی ہے ۔ ایوان میں مباحث کافی طویل بھی ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ ساری روش بدل دی گئی ہے ۔ اپوزیشن ارکان اگرایوان میںکسی غلط رویہ کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی بھی ہوتی ہے لیکن پھر انہیںسرزنش کرتے ہوئے انہیںایوان کی کارروائی میںشامل کیا جاتا تھا ۔ لیکن موجودہ حکومت ملک کی پارلیمانی جمہوریت کی روایتوںکو بھی خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیںہے ۔
ایوان زیریں یا لوک سبھا میںتو پھر بھی کچھ کارروائی ہوئی اور کچھ کام کیا گیا لیکن راجیہ سبھا کی کارروائی ہنگامہ آرائیوںکی نذر ہوگئی ۔ حکومت مسلسل اکثریت کے زور پر کام کر رہی ہے ۔ گذشتہ پارلیمانی سشن میں غیر شائستہ برتاؤ پر اپوزیشن کے 12 ارکان کو معطل کردیا گیا اور ان کی معطلی برخواست کرنے کو حکومت بالکل تیار نہیں ہوئی ۔ ملک کی جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے حکومت کو ان ارکان کو ایوان میں بحال کرنا چاہئے تھا ۔ ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے لچکدار رویہ اختیار کیا جاسکتا تھا لیکن حکومت نے ایساکرنے کی بجائے منگل کے اجلاس میںترنمول کانگریس کے ایک اور رکن ڈیرک او برائین کو بھی معطل کردیا ۔ اس طرح حکومت نے یہ پیام دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کو بھی خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیںہے حالانکہ اپوزیشن کے ارکان بھی ایوان کیلئے منتخب ہو کر آئے ہیں۔ حکومت اپوزیشن پر ایوان کی کارروائی میںرکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائدکرتی ہے لیکن جس طرح کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ایسے میںحکومت کوفراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو اعتمادمیںلینے کی ضرورت تھی اور ان کے ارکان کی معطلی کوبرخواست کرتے ہوئے ایوان میںنظم بحال کیا جاسکتا تھا اور ایسا کیا جانا چاہئے تھا لیکن نریندرمودی حکومت ایسا کرنے کو بالکل تیار نہیںہوئی ۔ اپوزیشن نے تو اپنے ارکان کیلئے احتجاج کیا لیکن حکومت نے اس کو خاطر میںنہیںلایااور پارلیمنٹ کاوقار متاثرہوا ہے ۔
ہندوستان کی پارلیمانی جمہوریت میںپارلیمنٹ کی کافی اہمیت ہے اور اسے ملک اور عوام کے مستقبل کے تعین کا ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔ یہاںملک کی انتہائی اہم ترین پالیسیاں تیار کی جاتی ہیںاور سب سے بڑا ادارہ ہے اسکے باوجود یہاں ہنگامہ آرائی اور گہما گہمی کی کیفیت میں سشن منعقد کئے جارہے ہیں اور اکثریت کے زور پر کارروائی چلائی جا رہی ہے ۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے ۔ اس پر حکومت اور اپوزیشن دونوںکو غور کرنے اور اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ایوان کے وقت کو ضائع کرنے کے ذمہ دار کون ہیںاور ان کے اقدامات سے ملک کے عوام میں کیا تاثر پیدا ہوسکتا ہے ۔ عوام کو ایک مثبت پیام دینے کیلئے دونوںہی فریقین کو اپنے اپنے موقف پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔
