سشن ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ۔ کرناٹک کی شکست کے بعد بی جے پی کی ترجیحات تبدیل ۔ متنازعہ مسائل پر توجہ موکرز کرنے کی حکمت عملی
حیدرآباد 26 مئی (سیاست نیوز) پارلیمنٹ مانسون اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ بی جے پی آئندہ پارلیمانی اجلاس میں متنازعہ قوانین بشمول ’یکساں سیول کوڈ ‘ بل کو پارلیمنٹ میں روشناس کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اسی سیشن کے دوران توقع ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے CAA کے رہنمایانہ خطوط کی تیاری اور ان کی منظوری کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ ان دو متنازعہ اقدامات کے ذریعہ بی جے پی ملک بھر میں فرقہ پرستوں کو متحد کرنے کی کوشش کے ساتھ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملک میں عام انتخابات قبل از وقت منعقد کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ بی جے پی 2024 عام انتخابات سے قبل CAA پر عمل آوری کیلئے رہنما خطوط کی منظوری کے علاوہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے قانون سازی کریگی ۔ گذشتہ ماہ مرکزی وزیر داخلہ نے یکساں سیول کوڈ پر اجلاس منعقد کرکے مختلف امور کا جائزہ لیا تھا اور عہدیداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ جولائی 2023 سے قبل یونیفارم سیول کوڈ بل کی تیاری کو یقینی بنائیں ۔ بجٹ سیشن 2023 کے دوران بیان میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ 2019 کے رہنمایانہ خطوط کی تیاری اندرون 6ماہ مکمل کرلی جائیگی۔ CAA کیلئے رہنمایانہ خطوط کی تیاری کے معاملہ میں جاریہ سال کے اوائل میں حکومت نے 7 ویں مرتبہ کمیٹی کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ستمبر یا اکٹوبر کے دوران ملک میں عام انتخابات بشمول تلنگانہ ‘ چھتیس گڑھ‘ راجستھان‘ میزورم مدھیہ پردیش انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں ساتھ ہی کہا جا رہاہے کہ تلگو ریاست آندھراپردیش میں بھی حکومت قبل از وقت انتخابات کیلئے تیار ہے اسی لئے امکان ہے کہ آندھراپردیش میں بھی قبل از وقت عام انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان 6 ریاستوں کے علاوہ بی جے پی اروناچل پردیش ‘ اوڈیشہ ‘ و سکم اسمبلی انتخابات عام انتخابات کے ساتھ کروانے اقدامات کرسکتی ہے کیونکہ نومبر 2023 سے اپریل 2024 کے دوران 9ریاستوں کے انتخابات منعقد ہونے ہیں اور ان کو بیک وقت منعقد کرنے کی جو منصوبہ بندی کی جا رہی ہے وہ دراصل انتخابات میں مقامی مسائل کے بجائے قومی مسائل کوحاوی کیا جاسکے۔کرناٹک انتخابات میں قومی مسائل پر بی جے پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی اور اب اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کے بیک وقت انعقاد کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہاہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مرکزی حکومت مانسون سیشن کے دوران یکساں سیول کوڈ اور CAA کی منظوری کے ذریعہ وعدوں کو مکمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچنے کی منصوبہ تیار کررہی ہے۔بی جے پی نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کی بنیادی وجہ کرناٹک انتخابات کے نتائج قرار دیئے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے ملک بھر کے تمام اضلاع میں الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تنقیح و جانچ کی ہدایات کے بعد کہا جار ہاہے کہ کمیشن ’9 اسمبلیوں اور پارلیمانی انتخابات‘ کے بیک وقت انعقاد کے ذریعہ ’ون نیشن ون الیکشن ‘ کی مشق کا ذہن بنا چکا ہے ۔ 2024 کے اوائل میں آندھراپردیش‘ اروناچل پردیش ‘ سکم‘ اوڈیشہ کے انتخابات ہونے ہیں جبکہ اواخر میں ہریانہ ‘ مہاراشٹرا و جھارکھنڈ اسمبلی کے انتخابات ہونے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت ہند نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کے ساتھ انتخابی مہم کا عملی آغاز کردیگی اور ممکنہ حد پارلیمنٹ مانسون اجلاس کے ذریعہ زیر التواء متنازعہ وعدوں کو پورا کرنے پیشرفت کے اقدامات کرے گی۔ لوک سبھا کی جون کے اواخر یا جولائی میں تحلیل پر ملک میں ستمبر یا اکٹوبر 2023 میں انتخابات ہوسکتے ہیں۔ م