پارلیمنٹ میں آنسوؤں کا اثر

   

Ferty9 Clinic

چڑھتا سورج بتارہا ہے مجھے
بس یہیں سے زوال ہے میرا

کانگریس کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد جب راجیہ سبھا سے سبکدوش ہو رہے تھے سبھی نے ان کو بدیدہ نم وداع کیا تھا ۔ غلام نبی آزاد کے ساتھ کئی برسوں بلکہ دہوں سے کام کرچکے قائدین میں ان کی دوری کا احساس تھا اور انہوںنے کئی برسوں کی رفاقت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کیا تھا ۔ تاہم جب وزیر اعظم نریندر مودی نے غلام نبی آزاد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا تو اس وقت سبھی کو حیرت ہوئی تھی جب وزیراعظم کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں اور وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے تھے ۔ وہ اپنے جملے بھی ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر پا رہے تھے ۔ اس وقت ایواان میں موجود سبھی ارکان نے اور خود غلام نبی آزاد نے بھی وزیر اعظم کے اس جذبہ کی ستائش کی تھی اور نیک تمناؤں کااظہار بھی کیا تھا ۔ تاہم پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی آنکھوں میں جو آنسو آئے تھے ایسا لگتا ہے کہ ان کا اثر اب دکھائی دے رہا ہے ۔ غلام نبی آزاد نے کانگریس سے استعفی دیدیا ہے ۔ یہ ان کا اختیار تھا کہ وہ اپنے مستقبل کیلئے چاہیں جو بھی فیصلہ کریں ۔ انہوں نے پارٹی سے علیحدگی کے بعد جس طرح سونیا گاندھی کی ستائش کی وہ بھی ایک طویل عرصہ کی رفاقت کی مظہر تھی ۔ تاہم جس طرح سے انہوں نے سابق صدر راہول گاندھی کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور جس طرح کی باتیں اب کر رہے ہیں وہ ایک سینئر لیڈر اور ایک طویل سیاسی کیرئیر رکھنے والے لیڈر کیلئے مناسب نہیں کہا جاسکتا ۔ کانگریس میں رہتے ہوئے پارٹی نے جو بھی فیصلے کئے ہیں ‘ جو بھی باتیں کہی ہیں ‘ پارٹی کے جو بھی پروگرامس رہے ہوں ان میں غلام نبی آزاد کی بھی برابر کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ پارٹی نے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو تو اس میں شاباشی کے حقدار غلام نبی آزاد بھی تھے ۔ اگر پارٹی نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی انہیں نبھانی ضروری ہوتی ہے ۔ یہ سیاسی اخلاقیات کی بات ہے ۔ کانگریس اور غلام نبی آزاد کا ساتھ گذشتہ پانچ دہوں پر محیط رہا ہے ۔ یہ کوئی معمولی رفاقت نہیں ہے ۔ ایک عمر اس میں بیت گئی ہے ۔ تین نسلیں بدل گئی ہیں۔ بہت سا پانی بہہ گیا ہے ۔ اس رفاقت کو تعلق ختم ہونے کے بعد رسواء نہیں کیا جانا چاہئے ۔
کسی سے رفاقت یا کسی سے دوری ہر ایک کا بنیادی اور جمہوری حق ہے ۔ اس پر کسی کو سوال نہیں ہوسکتا ۔ تاہم غلام نبی آزاد جس طرح سے راہول گاندھی کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ قابل افسوس ہے ۔ ان کا دعوی ہے کہ ’’ چوکیدار چور ہے ‘‘ کے نعرہ پر راہول گاندھی نے سبھی کو ہاتھ اٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔ ان کا دعوی ہے کہ راہول گاندھی کی پچکانہ سیاست کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہوا ہے ۔ یہ خیالات راہول گاندھی پارٹی فورم میں ظاہر کرسکتے تھے ۔جس طرح سے راہول کونشانہ بنایا جا رہا ہے اسی طرح سے غلام نبی آزاد وزیراعظم نریندرمودی کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ وہ ایک واقعہ کاتذکرہ کر رہے تھے جب کوئی حملہ ہوا تھا جس میں انسانی جانوں کا اتلاف ہوا تھا ۔ یہ جو دوہری باتیں ہیں ان سے یہ قیاس پیدا ہونے لگا ہے کہ پارلیمنٹ میں جو آنسو وزیر اعظم کی آنکھ میں دکھائی دئے تھے اب ان کا اثر ہونے لگا ہے ۔ راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنانا بھی غلام نبی آزاد کا جمہوری حق ہوسکتا ہے ۔ سبھی کو اس کا اختیار ہے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ تاہم اس معاملہ میں بھی غلام نبی آزاد نے خود راہول گاندھی سے اپنی دیرینہ رفاقت کو فراموش کردیا ہے ۔ غلام نبی آزاد نے اندرا گاندھی کے ساتھ کام کیا ۔ راجیو گاندھی کی اہم ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ سونیا گاندھی کے قریبی قائدین میں ان کا شکار ہوتا رہا ہے اور خود راہول گاندھی کے ساتھ بھی انہوں نے کام کیا ہے ۔ اس سب کے باوجود آج انہوں نے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ ان کی طرح کے سینئر ترین لیڈر کیلئے مناسب ہرگز بھی نہیں کہا جاسکتا حالانکہ یہ سب ان کا اختیار ضرور ہے ۔
سیاسی حلقوں میںیہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میںغلام نبی آزاد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی کو طئے کیا تھا اسی طرح شائد غلام نبی آزاد بھی اب کانگریس اور خاص طور پر راہول گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے مستقبل کی حکمت عملی کا تعین کرنے میں لگے ہیں۔ وہ جموں و کشمیر میں علاقائی سیاسی جماعت قائم کرسکتے ہیں اور وہاں وہ خود بی جے پی کا ہاتھ تھام سکتے ہیں یا پھر بی جے پی ان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی تعریف اور ستائش ہو رہی ہے ۔ تاہم اس میں اخلاقیات کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔