بے نیازی کو اپنی خو نہ بنا
یہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے؟
ہندوستانی جمہوریت میں پارلیمنٹ کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر بھی کہا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں ہی میں ملک اور ملک کے عوام کے تعلق سے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بل تیار کرکے پیش کئے جاتے ہیں۔ ان کا جائزہ لینے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ان میں ترامیم و تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ حکومتیں پھر ان ترامیم و تجاویز کا جائزہ لیتی ہیں۔ حکومت کے بل اور اپوزیشن کی تجاویز و ترامیم پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کی جانب سے دلائل دئے جاتے ہیں۔ اس کی خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور جب سارا ایوان ان بلوں کے تعلق سے ایک رائے ہوجاتا ہے یا پھر اختلاف رائے کو بڑی حد تک ختم کرلیا جاتا ہے تب کہیں جا کر قانون سازی کی جاتی ہے ۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اسے منظوری دی جاتی ہے ۔ ایوانوں میں اکثریت رکھنے کے باوجود ہندوستان میں یہ روایت رہی تھی کہ حکومتیں ایوان میں ایک آو از سے کوئی قانون منظور نہیں کرتیں بلکہ ایوان میں ان پر مباحث کروائے جاتے ۔ انہیں اسٹانڈنگ کمیٹیوں سے بھی ضرورت پڑنے پر رجوع کیا جاتا رہا ہے لیکن اب جبکہ مرکز میں گذشتہ سات سال سے بی جے پی کی نریندر مودی حکومت اقتدار پرہے دوسرے قوانین و اصولوں کی طرح اس روایت کی بھی دھجیاں اڑائی جا ری ہیں۔ قوانین بنانے کیلئے بل پارلیمنٹ میںپیش کئے جا رہے ہیں اور ان کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے گریز کرتے ہوئے بزور طاقت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ نہ انہیں اپوزیشن جماعتوں کی منظوری حاصل کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان بلوں کو پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹیوں سے رجوع کیا جا رہا ہے ۔ حکومت صرف اکثریت اور طاقت کے بل پر فیصلے کرتے ہوئے ایوان کی اہمیت کو گھٹانے کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ بارہا حکومت کے ذمہ دار یہ اعلان کرتے ہیں کہ حکومت تمام اہم مسائل پر پارلیمنٹ میں مباحث کروانے کیلئے تیار ہے اور اپوزیشن پر مباحث سے فرار کا الزام عائد کیا جاتا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود اپنے قوانین اور بلوں پر بھی ایوان میں مباحث کا سامنا کرنے تیار نہیں ہے ۔
جموںو کشمیر کو خصوصی موقف دینے والے دفعہ 370 کی تنسیخ پارلیمنٹ میں عمل میں لائی گئی ۔ انتہائی اہمیت کے حامل اس مسئلہ پر بھی ایوان میںمحض چند گھنٹوںمیں کارروائی پوری کرلی گئی ۔ حکومت نے گذشتہ دن تین متنازعہ زرعی قوانین کی تنسیخ کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا لیکن اس پر بھی ایوان میں کسی طرح کے مباحث کی اجازت نہیں دی گئی ۔ صرف بل پیش کیا گیا اور اپوزیشن کو اظہار خیال کا موقع دینے اور خود اس کا جواب دینے کی بجائے حکومت نے من مانی انداز میں کارروائی چلائی ۔ یہ جو روایت ہے اس سے ملک کی جمہوریت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ نوجوان نسل کو یہ پیام مل رہا ہے کہ پارلیمنٹ شائد اسی طرح کام کرتی ہو یا پھر قوانین بنانے کیلئے طاقت اور اکثریت کا استعمال کرنا ہی واحد راستہ ہو ۔ ہندوستانی جمہوریت اور پارلیمانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انتہائی شدید اختلاف کے باوجود دونوںہی ایوانوں میں بلوں کو پیش کیا گیا ہے ۔ ان پر سیر حاصل مباحث کی گنجائش فراہم کی گئی ۔ وقت کی اپوزیشن جماعتوں کی رائے اور تجاویز حاصل کی گئیں۔ ان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ تجاویز اگر قابل قبول رہیں تو پھر انہیں بھی قوانین میں شامل کرنے سے گریز نہیں کیا گیا ۔ تاہم آج اس سارے ماحول کوتبدیل کردیا گیا ہے ۔ صرف اکثریت اور طاقت کے بل پر ایوان کی اہمیت گھٹائی جا رہی ہے ۔ پارلیمنٹ کو بھی پارٹی دفتر کی طرح اشاروں پر استعمال کیا جا رہا ہے اور ملک کے عوام میں اس تعلق سے غلط نظر قائم کی جا رہی ہے ۔
اس بات سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قوانین بنانا حکومت کا اختیار ہے ۔ حکومتیں ہی صورتحال کے مطابق قوانین تیار کرتی ہیں اور پارلیمنٹ میں پیش کرتی ہیں لیکن ان پر گہما گہمی پیدا کرتے ہوئے کام نہیں کیا جانا چاہئے ۔ پارلیمنٹ کے دونوںہی ایوانوں میں بلوں کی نقول قبل از وقت فراہم کرکے اپوزیشن کو اس کا مطالعہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ ان سے رائے طلب کی جانی چاہئے ۔ سیاسی اختلافات کو پارلیمنٹ عمارت کے باہر چھوڑتے ہوئے ایوان میں ملک کی تعمیر اور ترقی کے جذبہ کے ساتھ ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن فی الحال ایسا نہیں ہو رہا ہے اور مودی حکومت کو اس جانب بطور خاص توجہ دینی کی ضرورت ہے ۔
