دہلی تشدد پر ایوان میں شوروغل ،لوک سبھا کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی
نئی دہلی ۔5 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں مسلسل ہنگامہ آرائی سے ناراض اسپیکر لوک سبھا اوم برلاآج دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں نہیں آئے ۔ اپوزیشن پارٹیوں اور حکمراں جماعت کے ارکان کے درمیان شور وغل کے مناظر دیکھے جارہے ہیں ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دہلی کے تشدد پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمانی کارروائی کو مفلوج کردیا ہے ۔ اپوزیشن ارکان نے شوروغل کرتے ہوئے نعرے بازی کی ۔ آج چوتھے دن بھی کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ۔ وقفہ سوالات کے دوران تین سوالات پر ہی بحث شروع کی گئی تھی کہ ہنگامہ شروع ہوا ۔ پارلیمنٹ کی کارروائی کے چار دن ہنگامہ کی نظر ہوگئے ۔ اسپیکر اوم برلا گذشتہ دو دن سے ایوان میں موجود نہیں ہیں ، کرسی صدارت پر بی جے ڈی کے لیڈر بی مہتاب نظر آئے ۔ صبح میں تقریباً 15منٹ کے بعد وقفہ سوالات کو ملتوی کردیا گیا ۔ مہتاب نے احتجاجی ارکان سے کہا کہ وہ ایوان کی کارروائی چلنے دیں ۔ اس گڑبڑھ کیلئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ وقفہ سوالات کے التواء کے بعد تقریباً 30ارکان جن میں زیادہ تر کانگریس کے ارکان تھے ایوان کے درمیان پہنچ کر نعرے لگانے لگے ۔ ہاتھوں میں بیانر اور پلے کارڈ تھامے ہوئے یہ ارکان دہلی تشدد پر وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے ۔ پارلیمانی اُمور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ ارکان کی تین چوتھائی اکثریت ایوان کی کارروائی چلنے دینا نہیں چاہتی ۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ سماج میں پھوٹ ڈالنے کیلئے ذمہ دار ہیں وہی آج احتجاج کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی تشدد پر پہلے ہی بحث ہوچکی ہے اور حکومت نے تشدد کے خلاف کارروائیوں کا آغاز بھی کیا ہے ۔ اسپیکر کی جگہ کارروائی چلانے والے مہتاب نے بھی کہا کہ ایوان میں گڑبڑھ کو دیکھ کر ہی اسپیکر اوم برلا ناراض ہوگئے ہیں اس لئے وہ ایوان آنا نہیں چاہتے ۔ وہ اپنی کُرسی سے تقریر کررہے تھے کہ کانگریس کے ایک رکن نے چیخ کر کہا کہ آپ اسپیکر نہیں ہیں اگر حکومت بات کرنے کیلئے تیار ہیں تو آپ کو بات کرنا چاہیئے ۔ اس طرح آپ خود گڑبڑھ پیدا کررہے ہیں ۔ دہلی کے فسادات اور کورونا وائرس کی صورتحال پر بحث ہونی چاہیئے یہ دونوں مسائل اہم ہیں ۔
