پارلیمنٹ کا تعطل ختم کیا جائے

   

Ferty9 Clinic

جمہوریت میں انتہائی مقدس سمجھے جانے والے پارلیمنٹ میں گذشتہ دو ہفتوں سے کوئی کارروائی نہیں ہو پا رہی ہے ۔ ایوان میں مسلسل گڑبڑ ‘ ہنگامہ آرائی اور کارروائی کے التواء کا سلسلہ جاری ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں انتہائی اہمیت کے حامل مسائل اور امور پر ایوان میں مباحث کرنا چاہتی ہیں لیکن حکومت ان سے فرار اختیار کررہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر ایوان کا وقت ضائع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ایوان کا وقت حکومت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں جن مسائل پر مباحث کرنا چاہتی ہیں ان کی اپنی اہمیت ہے اور ان پر کئی شبہات اور سوالات ہیں جن کا جواب حکومت کو دینا چاہئے ۔ ملک میں چونکہ میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہا ہے اور قوم کو درپیش مسائل کو پیش کرنے اور اٹھانے کی بجائے حکومت کے تلوے چاٹنے میں مصروف ہے ایسے میں ان مسائل پر ملک بھر میں رائے عامہ بھی ہموار ہونے نہیں پا رہی ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے حتی المقدور کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت کو ان مسائل پر مباحث کیلئے تیار کیا جائے لیکن حکومت اپنے رویہ پر اٹل ہے ۔ اسے نہ پارلیمانی روایات و اقدار کی کوئی پرواہ رہ گئی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے یہ حکومت تیار نظر آتی ہے ۔ صورتحال تعطل کا شکار ہوگئی ہے ۔ پارلیمنٹ میں دو ہفتوں کا وقت ضائع ہونا معمولی بات نہیں ہے ۔ حکومت کو خود اس پر بھی جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ ایوان کا وقت ضائع ہونے سے بچانا اور ایوان میں اہمیت کے حامل مسائل پر مباحث کروانا اور شکوک و شبہات کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت اپنی اس ذمہ داری سے اپوزیشن پرا لزام تراشی کرتے ہوئے فرار اختیار کر رہی ہے ۔ حکومت ہنگامہ آرائی اور گڑبڑ کے دوران صرف اپنے بلز کو منظوری دلانے پر توجہ کر رہی ہے جبکہ پارلیمنٹ کے ایوان صرف بلز کی منظوری کیلئے نہیں ہیں۔ جو بلز منظور کئے جا رہے ہیں وہ بھی بہت زیادہ جلد بازی کے متقاضی نہیں ہیں۔ ان کو التواء میں بھی رکھا جاسکتا ہے لیکن حکومت ایسا کرنے تیار نہیں ہے ۔
ملک میں مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے ۔ عوام پر مسلسل بوجھ عائد ہوتا جا رہا ہے ۔ ضرورت کی تقریبا تمام اشیا کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ کسان احتجاج آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ سے چل رہا ہے ۔ حکومت کسانوں سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی تین زرعی قوانین پر کوئی مشاورت ہو رہی ہے ۔ پیگاسیس جاسوسی مسئلہ پر بھی حکومت جواب دہی سے بچنا چاہتی ہے ۔ اس سے شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ اس معاملے میں حکومت بہت کچھ چھپانا چاہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں انتہائی اہمیت کے حامل ان مسائل پر کوئی مباحث نہیں کئے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں جہاں اپنے مطالبات پر اٹل ہیں اور چاہتی ہیںکہ ان تمام مسائل پر حکومت جواب دے اور اپنے موقف کی وضاحت کرے لیکن حکومت جواب دہی سے بچنا چاہتی ہے ۔ حکومت اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کر رہی ہے ۔ پارلیمنٹ کا وقت ضائع ہونے کی بھی حکومت کو کوئی فکر نہیں رہ گئی ہے ۔ اسے صرف بلز منظور کروانے کی فکر لاحق ہے جبکہ کئی بلز ایسے ہیں جنہیں صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ بھی منظوری دی جاسکتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام میں بے چینی پیدا کرنے والے مسائل پر مباحث کئے جائیں۔ عوام کے سامنے اور اپوزیشن کے سامنے ساری صورتحال کو پیش کیا جائے اور انہیں اطمینان دلایا جاسکے ۔ تاہم ایسا کرنے سے نریندر مودی زیر قیادت حکومت بچنا چاہتی ہے جس سے حکومت کے ارادوں اور اس کے منشاء پر بھی سوال پیدا ہوتے ہیں۔
جس وقت سے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوا ہے اس وقت سے ہنگاموں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایوان کا وقت اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع ہوتا جا رہا ہے ۔ کوئی تعمیری اور عوامی کام اس اجلاس میں نہیں ہو رہا ہے ۔ حکومت کو اپنے ہٹ دھرمی والے رویہ سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے جو سوال کئے جا رہے ہیں ان کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ عوام میں جو بے چینی ہے اسے دور کرنا حکومت کا فریضہ ہے اور حکومت کو اپنی یہ ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئے ۔ ایوان کا وقت مسلسل ضائع کرتے ہوئے ایک غلط نظیر قائم کی جا رہی ہے اور ایسا کرنے سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو گریز کرنا چاہئے ۔