پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس چل رہا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے مرکزی بجٹ ایوان میں پیش کیا ہے ۔ بجٹ تجاویز پر ایوان میں مباحث ہونے ہیں۔ اس سے قبل صدرج مہوریہ شریمتی دروپدی مرمو کے دونوںایوانوں سے مشترکہ خطاب پر تحریک تشکر کے مباحث کے دوران اپوزیشن اور برسر اقتدار ارکان کے مابین ایوان میں ٹکراؤ کی کیفیتی پیدا ہوگئی ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے دیگر مسائل کو موضوع بحث بنانے کے مسئلہ پر گہماگہمی کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور گذشتہ تین دن سے ایوان کی کارروائی لگاتار متاثر ہ رہی ہے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے چین کی در اندازیوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ جب راہول گاندھی کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات اور اس کی دراندازی کے مسئلہ پر سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے کی کسی کتاب کا تذکرہ کرنے کی کوشش کی گئی اور حوالہ دینے کی کوشش کی گئی تو برسر اقتدار اتحاد اور پھر خود اسپیکر لوک سبھا کی جانب سے اس پر اعتراض کیا گیا ۔ حکومت کے کئی وزراء نے بھی اس پر شدید اعتراض کرتے ہوئے راہول گاندھی کوا ظہار خیال سے روکا گیا ۔ حالانکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی جانب سے راہول گاندھی کی حمایت کی گئی اور انہیں اظہار خیال کا موقع دینے پر اصرار کیا گیا لیکن اسپیکر لوک سبھا اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئے اور انہوںنے راہول گاندھی کو اظہار خیال کی اجازت نہیں دی اور کہا گیا کہ ایوان میں اس طرح کسی کتاب کا تذکرہ نہیں کیا جاسکتا ۔ جہاں راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس تذکرہ پر مصر ہیں وہیں حکومت اور اسپیکر کی جانب سے اس کی شدت سے مخالفت کی جا رہی ہے ۔ برسر اقتدار جماعت اور اتحاد کے ارکان اور وزراء بھی ایوان میں راہول گاندھی کو اظہار خیال سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ راہول گاندھی اپنا موقف رکھنا ہیں نہیں چاہتے اس لئے غیر متعلق حوالے دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ حکومت ان کوا ظہار خیال سے روک رہی ہے اور حقائق کو منظر عام پر لانے سے روکا جا رہا ہے ۔ اس طرح دونوں ہی جانب سے غیرلچکدار موقف اختیار کیا گیا ہے ۔
جہاں تک پارلیمنٹ کا سوال ہے تو اس کے اجلاس ہوتے ہیں اظہار خیال کیلئے ہیں۔ حکومت سے سوال کئے جاتے ہیں۔ ایوان میں سوال کرنے پر حکومت راست جواب دینے کی پابند ہوتی ہے ۔ حکومت اپنے منصوبوںاور پروگراموںکو بھی ایوان میں پیش کرتی ہے ۔ اپنی کارکردگی پر ارکان کے سوالات کے جواب دیتی ہے ۔راہول گاندھی بھی ہند ۔ چین تنازعہ کے تعلق سے حکومت سے سوال ہی کرنا چاہتے ہیں اور وہ جو حوالہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کسی غیر متعلق گوشے کا نہیں بلکہ ملک کے سابق فوجی سربراہ کا ہے ۔ اس طرح اس حوالے کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ کہی جاسکتی ہے ۔ سابق فوجی سربراہ نے تمام حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا تھا اور قائد اپوزیشن کی حیثیت سے راہول گاندھی اسی بات کو ایوان میں پیش کرناچاہتے ہیں لیکن حکومت اس کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ ایوان کی کارروایء کو اپنے انداز میں چلائے ۔ حکومت کسی مخالف یا منفی تذکرہ کو برداشت یا قبول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ وہ صرف اپنی واہ واہی کو پسند کرتی ہے اور اپنے ہی انداز میں ایوان کی کارروائی کو چلانا چاہتی ہے جو ہندوستان کی جمہوری روایات اور اصولوں کے یکسر مغائر ہے ۔ ایوان میں ہر رکن کو اظہار خیال کا حق حاصل ہے اور حکومت کو یہ موقع دینا چاہئے ۔ قائداپوزیشن کو اظہار خیال کا موقع دینا زیادہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ وہ ساری اپوزیشن جماعتوں کا لیڈر ہوتا ہے ۔ اسے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔
اپوزیشن ارکان کی جانب سے گذشتہ تین دن سے اس مسئلہ پر جدوجہد کی جا رہی ہے اور تین دن سے حکومت اس کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس طرح سے ایوان کا وقت ضائع ہو رہا ہے ۔ کام کاج متاثر ہو رہا ہے ۔ حکومت ہو یا اپوزیشن ہو دونوںہی کو ایوان کا وقع ضائع کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ جو اصول اور قوانین و ضوابط ہیںان کے مطابق ایوان کی کارروائی چلائی جانی چاہئے اور کسی بھی رکن کو اور خاص طور پر قائد اپوزیشن کو اظہار خیال سے روکنے سے گریز کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ طریقہ کار درست نہیں کہا جاسکتا ۔