پارلیمنٹ کے باہر کانگریس ارکان کے احتجاج کو پرینکا گاندھی کی تائید

   

یوریا کی اجرائی کے لیے جے پی نڈا سے نمائندگی، جنتر منتر پر ارکان پارلیمنٹ کا دھرنا
حیدرآباد 19 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے آج مسلسل دوسرے دن پارلیمنٹ کے احاطہ میں دھرنا منظم کرتے ہوئے کسانوں کو یوریا کی سربراہی کا مطالبہ کیا۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو یوریا کی جو مقدار الاٹ کی تھی اُس کے مطابق اجرائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے تعلق رکھنے والے تلنگانہ ارکان کے احتجاج میں کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی نے حصہ لیتے ہوئے اظہار یگانگت کیا۔ اُنھوں نے مرکز سے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے یوریا سربراہ کرنے کی مانگ کی۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہاکہ چیف منسٹر اور وزراء نے یوریا کے سلسلہ میں مرکز سے بارہا نمائندگی کی لیکن خریف سیزن میں یوریا جاری نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ کے ساتھ مرکز کا جانبدارانہ رویہ ہے جبکہ بی جے پی اور اُس کی حلیف پارٹیوں کی زیراقتدار ریاستوں میں یوریا کی سربراہی بروقت انجام دی گئی۔ اِسی دوران ارکان پارلیمنٹ ملو روی، کرن کمار ریڈی، سریش شیٹکر، بلرام نائک اور دوسروں نے مرکزی وزیر فرٹیلائزرس جے پی نڈا سے ملاقات کی اور تلنگانہ کو 62,000 میٹرک ٹن یوریا کی سربراہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ فورم کے صدرنشین ڈاکٹر ملو روی نے کہاکہ جے پی نڈا نے اندرون ایک ہفتے یوریا کی سربراہی کا تیقن دیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے تلنگانہ میں کسان یوریا کی قلت کے باعث احتجاج کررہے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہاکہ تلنگانہ حکومت الاٹ کردہ یوریا کی اجرائی کی مانگ کررہی ہے جبکہ آندھراپردیش اور دیگر ریاستوں کو وعدے کے مطابق اجرائی عمل میں لائی گئی۔ انڈیا الائنس سے تعلق رکھنے والی دیگر پارٹیوں کے ارکان نے بھی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج میں حصہ لیا۔ اِسی دوران ارکان پارلیمنٹ نے جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا۔1