حکومت اور پارٹی میں بہتر تال میل، آئندہ الیکشن نظام آباد سے لڑوں گا، مہیش کمار گوڑ کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد 15 ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کی صدارت پر 2 سال کی تکمیل میں تمام قائدین اور کارکنوں کا تعاون حاصل ہوا ہے۔ صدر پردیش کانگریس کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے 2 سال کی تکمیل پر میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ صدارت کا 2 سالہ سفر کامیاب اور توانائی سے بھرپور رہا۔ پارٹی کے استحکام اور حکومت کی فلاحی اسکیمات کو عوام تک پہونچانے میں پارٹی نے اہم رول ادا کیا ہے۔ صدارت پر 2 سال کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ پارٹی کارکنوں کا بھرپور اعتماد حاصل ہوا ہے اور بوتھ سطح تک پارٹی کے پھیلاؤ میں مدد ملی ہے۔ اُنھوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اختلافات کی تردید کی اور کہاکہ ریونت ریڈی نے 2 سال کے دوران اُن سے مکمل تعاون کیا اور بہتر تال میل کے ساتھ پارٹی اور حکومت آگے بڑھ رہے ہیں۔ اُنھوں نے اعتراف کیاکہ بعض معمولی چیالنجس کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی دشواری کے بغیر اُنھیں حل کرلیا گیا۔ مہیش کمار گوڑ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی، میناکشی نٹراجن اور دیپاداس منشی کے تعاون کا بطور خاص ذکر کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی نے 17 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ تلنگانہ میں طبقاتی سروے سماجی انصاف کی راہ میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قومی سطح پر طبقاتی سروے کے لئے کانگریس رہنما راہول گاندھی مسلسل مانگ کررہے ہیں لیکن مودی حکومت نے اپنے وعدے سے انحراف کرلیا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے آئندہ عام انتخابات میں مرکز میں کانگریس کے اقتدار کو یقینی قرار دیا اور کہاکہ کانگریس حکومت قومی سطح پر طبقاتی سروے کا اہتمام کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ اے آئی سی سی کے ہر پروگرام کو بوتھ سطح تک عمل کیا گیا ہے۔ گرام پنچایت کے انتخابات میں 57 نشستیں بی سی امیدواروں کو الاٹ کی گئیں جبکہ بلدی انتخابات میں 50 فیصد نشستیں بی سی طبقات کو مختص کی گئیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ضلع کانگریس صدور کے انتخاب کے لئے ہائی کمان نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ اختلاف رائے کسی بھی پارٹی میں فطری ہے لیکن اِسے چیف منسٹر سے اختلاف یا تصادم نہیں کہا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ 2 سال کی مدت میں ریونت ریڈی سے کبھی بھی کوئی تنازعہ یا دوری پیدا نہیں ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے پارٹی کے اُمور میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی۔ کونڈہ سریکھا کی کابینہ سے برطرفی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ بی سی وزیر کی برطرفی سے اُنھیں دُکھ پہنچا تاہم آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے کونڈہ سریکھا کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ کوئی بھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کارروائی سے نہیں بچ سکتا۔ ڈسپلن شکنی کے معاملہ میں پارٹی ہائی کمان نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد میری قیادت میں پارٹی کو کنٹونمنٹ اور جوبلی ہلز ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اُنھوں نے کہاکہ جاریہ ماہ کے اختتام تک ورکنگ پریسیڈنٹس کا تقرر کیا جائے گا۔ اسمبلی امیدواروں کے انتخاب میں ضلع کانگریس صدور کی رائے کو اہمیت دی جائے گی۔ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمندوں کو ضلع کانگریس صدور سے رجوع ہونا چاہئے۔ مہیش کمار گوڑ نے کابینہ میں بی سی طبقہ کے 4 تا 5 نمائندوں کی شمولیت کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وزارتی عہدہ کے لئے وہ ہائی کمان سے رجوع نہیں ہوئے ہیں۔ کانگریس پارٹی مستقبل میں بی سی قائد کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپنے ضلع سے حصہ لیں گے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی اور بی آر ایس آرٹیفشل انٹلی جنس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کے خلاف مہم چلارہے ہیں۔ کے سی آر سے متعلق سوال پر مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ میں کے سی آر کا تلنگانہ تحریک کے قائد کے طور پر احترام کرتا ہوں لیکن وہ ایک ناکام چیف منسٹر ثابت ہوئے ۔V/1