وزارت خارجہ اور پاسپورٹ اتھاریٹی کا فیصلہ درست : تلنگانہ ہائی کورٹ
ابوایمل کا ادارہ سیاست سے کبھی راست تعلق نہیں رہا
حیدرآباد۔7۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے اکرم علی محمد (ابوایمل ) کے پاسپورٹ کی تنسیخ کے خلاف دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے پاسپورٹ اتھاریٹی‘ وزارت خارجہ کے فیصلہ کو درست قرار دیا اور کہا کہ جس شخص سے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہواسے بیرون ملک روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریجنل پاسپورٹ آفیسر کی جانب سے عدالت میں پیش کئے گئے ادعا میں کہاگیا کہ محکمہ پولیس حکومت تلنگانہ سے موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پاسپورٹ کی تنسیخ کا فیصلہ کیاگیا ہے کیونکہ رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیاگیا تھا کہ درخواست گذار بیرون ملک ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتا ہے جو کہ ہندستان کی سالمیت کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے رٹ درخواست نمبر 3114/2020 میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گذار جو کہ پیشہ صحافت سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اس نے اردو کے سرکردہ اداروں میں خدمات انجام دینے کے شواہد پیش کرتے ہوئے محکمہ انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن کی جانب سے جاری کیا گیا اکریڈیشن کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے ’روزنامہ سیاست‘ میں خدمات کی انجام دہی کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ عدالت کے فیصلہ میں ادارۂ سیاست کے تذکرہ کے بعد یہ وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ شخص کا ’ادارہ سیاست ‘ سے کبھی کوئی راست تعلق نہیں رہا بلکہ وہ ’فری لانس ‘ کی حیثیت سے اطلاعات لایا کرتے تھے اور ان کے پاس ’لکھنے ‘ کی صلاحیت نہ ہونے کے سببادارہ میں خدمات انجام دینے والے ایک سب ایڈیٹر کے ذریعہ ان کی خبریں ضبط تحریر میں لائی جاتی تھیں اور ضروری تصورکرنے پر انہیں شائع بھی کیا جاتا رہا۔ 25اکٹوبر 2019کو وزارت خارجہ کے شعبہ پاسپورٹ کی جانب سے پاسپورٹ کی تنسیخ کے فیصلہ کو چیالنج کرتے ہوئے داخل کی گئی درخواست میں درخواست گذار نے سیکریٹری وزارت خارجہ کو فریق بناتے ہوئے درخواست داخل کی تھی جس میں حکومت تلنگانہ کے محکمہ داخلہ اور پولیس کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کا معزز جج تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ناگیش بھیماپاکا نے حوالہ دیا جس میں کمشنر پولیس نے عدالت میں داخل کئے گئے اپنے جوابی حلف نامہ میں بتایا کہ مذکورہ شخص کی زندگی سے متعلق پولیس کمشنریٹ میں 10اپریل 2018 کو ایک فائل شخصی زندگی پر نمبر 84/PF/2018 کھولی گئی ہے اور اس کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 17اکٹوبر 2019 کو انسپکٹر جنرل آف پولیس محکمہ انٹلیجنس نے پاسپورٹ اتھاریٹی کو ایک فائیل نمبر65/F4/2019 روانہ کرتے ہوئے پاسپورٹ کی درخواست کو غیر سماجی عناصر سے روابط کی بنیاد پر مسترد کرنے کا حوالہ دیا تھا۔عدالت سے جاری کئے گئے احکامات میں محمد اکرم علی (ابوایمل ) کے خلاف حیدرآباد میں ملک سے غداری ‘ چوری ‘ آرمس ایکٹ کے علاوہ دیگر مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ مقدمہ نمبر 155/1998 میں ملزم نمبر 12 تھا اور اس مقدمہ میں 24جون2002 کو اس مقدمہ میں برأت ہوچکی تھی۔ مذکورہ شخص پر آئی ایس آئی ایجنٹ محمد سلیم جنید سے تعلقات کے علاوہ مذکورہ شخص کی سیکل کی دکان کے گودام سے ایک پستول‘30 کارتوس کے علاوہ ایک کیلو گرام پوٹاشیم کلورائیڈ ضبط کیاگیا تھا ۔ پولیس کے جوابی حلف نامہ میں مذکورہ شخص کی جانب سے شہر میں شیعہ‘ سنی تفرقہ پھیلانے کے علاوہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے واقعات کا بھی حوالہ دیا گیاہے۔عدالت نے پاسپورٹ کی تنسیخ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے احکام میں کہا کہ محکمہ پولیس تلنگانہ ‘ محکمہ داخلہ حکومت تلنگانہ کے علاوہ دیگر فریقین کی جانب سے داخل کئے گئے حلف ناموں کا جائزہ لینے کے بعد پاسپورٹ کی تنسیخ کو بحال کرنے کے احکام نہیں دیئے جاسکتے۔3