کل سے نارسنگی میں تجربہ، عصری ٹیکنالوجی کے دور میں اختراعی منصوبہ
حیدرآباد۔26۔جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی ان پاش کالونیوں اور اپارٹمنٹس میں جہاں فوڈ ڈیلیوری بوائز کو داخلہ کے لئے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ان مقامات کے مکینوں کی سہولت کے لئے اب روبوٹ فوڈ ڈیلیوری کا کام انجام دے گا۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ نارسنگی کے دو گیٹیڈ کمیونیٹی میں 28جون سے 20 یوم کے لئے فوڈ ڈیلیوری روبوٹ کی خدمات کا تجرباتی آغاز کیا جائے گا اور کامیاب تجربہ کی صورت میں اس روبوٹ کی تیاری کرنے والی کمپنی کے ذمہ داروں کی جانب سے روبوٹ بازار میں فروخت کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ایکسپریس ٹیکنالوجیسٹکس نامی کمپنی جو یہ روبوٹ تیار کرنے والی کمپنی ہے کہ ذمہ داروں نے بتایا کہ فوڈ ڈیلیوری بوائز کو کئی علاقوں میں بالخصوص گیٹیڈ کمونیٹیز اور اپارٹمنٹس میں داخلہ کی اجازت نہیںدی جاتی جس کی وجہ سے فوڈ ڈیلیوری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اب جن مقامات پر فوڈ ڈیلیوری بوائز کو داخلہ کی اجازت نہیں ہے ان مقامات پر اس روبوٹ کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں اگر فوڈ ڈیلیوری بوائز اس روبوٹ میں اشیائے خورد و نوش کا پارسل رکھتے ہوئے اس پر جس فلیٹ نمبر یا بنگلہ میں پارسل پہنچانا ہے اس کی تفصیل درج کردے تو یہ روبوٹ پارسل سیدھا اس مکان یا فلیٹ پر پہنچا دے گا۔تیارکنندگان نے بتایا کہ اپارٹمنٹ میں جہاں اوپری منزلوں پر کھانا پہنچانا ہوتا ہے ان اپارٹمنٹ میں موجود لفٹ میں چپ نصب کرتے ہوئے اسے روبوٹ سے مربوط کیا جاسکتا ہے اور روبوٹ اسے موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق مطلوبہ منزل پر پہنچ کر پارسل پہنچادے گا۔ پارسل کے ساتھ منزل مقصد پر پہنچنے والے روبوٹ کے پہنچتے ہی آرڈر دینے والوں کو ایک اوٹی پی موصول ہوگا اور اس اوٹی پی کے اندراج کے ساتھ ہی روبوٹ میں موجود ان کا پارسل ان ک حوالہ کردیا جائے گا۔روبوٹ کے ذریعہ فوڈ ڈیلیوری یقینی بنانے والی کمپنی کے ذمہ داروں نے بتایا کہ شہر کے کئی محفوظ ترین علاقوں اور مقامات پر SWIGGY اور ZOMATOکے فوڈ ڈیلیوری بوائز کو داخلہ نہ دیئے جانے کی شکایات موصول ہورہی ہیں ان شکایات کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کی کمپنی نے روبوٹ کے ذریعہ گھر تک پارسل پہنچانے کے اقدامات کو یقینی بنایا ہے۔ کمپنی کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ فوڈ ڈیلیوری کے لئے روبوٹ اور دیگر عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کے متعلق تیار کئے جانے والے منصوبوں میں یہ بھی ایک اختراعی منصوبہ ہے اور مستقبل قریب میں روبوٹ کے استعمال کے ذریعہ مختلف اشیاء کی ڈیلیوری بھی عام بات ہوجائے گی۔م