کر رہا ہوں میں جہادِ زندگی
وقت میری داستان ہے آجکل
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات
ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا آج الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا ہے ۔ اس طرح پانچ ریاستوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ کردیا گیا ہے اور یہاں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں اب مزید تیزی اورشدت پیدا ہوجائیگی ۔ ویسے تو گذشتہ چند ماہ سے ان ریاستوں اور خاص طور پر اترپردیش میںسیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی تھیں۔ تمام جماعتیں اپنے اپنے طور پر سرگرم ہوچکی تھیں اور باضابطہ امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی منشور کی اجرائی کا انتظار تھا اور اب یہ بھی مرحلہ وار انداز میںشروع ہو جائیگا ۔ اترپردیش میںسات مراحل میں انتخابات ہونگے جبکہ پنجاب ‘ اترکھنڈ اور گوا میں ایک ہی مرحلہ میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔منی پور میں دو مراحل میں پولنگ ہوگی ۔ تمام ریاستںو کے انتخابی نتائج کا 10 مارچ کو اعلان ہوگا ۔ الیکشن کمیشن نے آج شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی 15 جنوری تک سیاسی جماعتوں کے جلسوں ‘ ریلیوں اور روڈ شوز وغیرہ پر پابندی عائد کردی ہے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک بھر میں کورونا کی تیسری لہر نے شدت سے سر ابھارنا شروع کردیا ہے اور لوگ کثیر تعداد میںاس وائرس کا شکار ہو رہے ہیںایسے میںانتخابی شیڈول کی اجرائی اہمیت کی حامل ہے ۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی عملہ کو ٹیکہ دینے اور بوسٹر دینے کے بھی احکام دئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو کمیشن کی تمام ہدایات کا پابند بنایا جائے ۔ عوام کی صحت اور زندگیوں سے کھلواڑ کا کسی کو بھی موقع یا اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ سیاسی جماعتیں اور قائدین مسلسل اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ہر طرح کے قوانین اور اصولوں کی دھجیاںاڑاتے اور پھر بعد میںخود ہی ان قوانین کی دہائیاں دیتے ہیں۔ سابق میں کئی مثالیںموجود ہیں جب کورونا تحدیدات کے باوجود جلسوں اور ریلیوں کے انعقاد کے ذریعہ عوام کو مشکلات اور پریشانیوں کا شکار کردیا گیا تھا ۔ کورونا کی دوسری لہر کیلئے انتخابی جلسے اور ریلیاں اور سیاسی جماعتیں بھی بڑی حد تک ذمہ دار تھیں۔ سابقہ تجربات کو الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں دونوں ہی کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
جو جماعتیں ان ریاستوں کے انتخابات میں حصہ لینے والی ہیں انہیں انتخابی قوانین کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں سے گریز کرنا چاہئے ۔ انتخابی مہم کے دوران عوامی مسائل اور ملک کو درپیش سلگتے ہوئے امور پر تو جہ دی جانی چاہئے ۔ ترقی کے امور کو پیش کرتے ہوئے عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو پراگندہ ہونے سے بچانے کی ہر ایک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ انتخابی ماحول میںفرقہ پرستی کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ منافرت پھیلانے اور سماج کے دو اہم طبقات کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینے کے اقدامات میں تیزی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ ماحول کو بگاڑا جاتا ہے ۔ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے امیدوار اور سیاسی جماعتیں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں۔ انہیں اپنے انتخابی فائدے عزیز ہوتے ہیں ملک کے مفادات کی کوئی پرواہ نہیںہوتی ۔ الیک کمیشن کو ان تمام امور کو ذہن میں رکھتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ محض کاغذی حد تک اعلانات یا قوانین کو پیش کردینا کمیشن کا ذمہ نہیں ہوسکتا ۔ ان قوانین اور ہدایات پر عمل آوری کو یقینی بنانا بھی کمیشن کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے اور اسے پورا کیا جانا چاہئے ۔ الزامات و جوابی الزامات کی سیاست بھی اب عروج پر پہونچنے والی ہے اور اس پر پانچ ریاستوں کے ووٹرس کو توجہ دینے اور حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی ۔
جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ سب سے زیادہ اہم ریاست اترپردیش ہے جہاں بی جے پی اپنا اقتدار بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے تو سماجوادی پارٹی اقتدار واپس لانے کیلئے کوشاں ہے ۔ کانگریس ریاست کی سیاست میں اپنے وجود کا ممکنہ حد تک احساس دلانے کی خواہاں ہے ایسے میں خاص طورپر اترپردیش میں فرقہ وارانہ ماحول پر خاص نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی ۔ ترقیاتی امور اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی بجائے سماج میں تفریق پیدا کرنے کی کوششیں زیادہ تیز ہونے والی ہیں اور اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ ووٹرس کے ذہن متاثر کئے جائیں گے ۔ کمیشن کو ایسی حرکتوں کا بھی سخت نوٹ لیتے ہوئے تمام جماعتوں کس اس بات کا پابند بنانا چاہئے کہ وہ قوانین سے کھلواڑ کرنے سے ممکنہ حد تک گریز کریں گی ۔
نفرت کی مہم اور وزیر اعظم کی خاموشی
سارا ملک آج اس بات پر متفکر ہے کہ یہاں مختلف گوشوں سے سماج میں نفرت پھیلانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں ۔ کہیں مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے تو کہیں ان کی لنچنگ کی جا رہی ہے ۔ کہیں انہیں گاوں سے باہر کیا جا رہا ہے تو کہیں چھوٹے موٹے تاجروں کو مار پیٹ کی جا رہی ہے ۔ کہیں کسی گرجا گھر میں توڑ پھوڑ ہو رہی ہے تو کہیں نماز کی ادائیگی سے روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس ماحول نے متفکر و ذمہ دار شہریوںکو پریشان کردیا ہے ۔ سنجیدہ گوشے چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ پر وزیر اعظم اپنی خاموشی توڑیں کیونکہ ان کی خاموشی سے نفرت پھیلانے والوں کی بالواسطہ حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔ آئی آئی ایم کے طلبا اور فیکلٹی ارکان نے بھی اس سلسلہ میں وزیر اعظم کو ایک کھلا مکتوب روانہ کیا ہے اور انہیں خاموشی توڑنے کو کہا ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ وزیرا عظم یا حکومت کے دوسرے ذمہ دار اس طرح کے حساس اور اہمیت کے حامل مسائل پر کوئی رد عمل ظاہر نہیںکرتے ۔ اپنی خاموشی سے وہ ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہی کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کو ملک کے ماحول کو پراگندہ ہونے سے بچانے کیلئے ایسے عناصر کی مذمت کرنی چاہئے ۔ ایجنسیوں کو یہ ہدایت دی جانی چاہئے کہ ایسے عناصر کی سرکوبی میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ حکومت کے ذزہ داروں کو بھی جوبادہ بنانا چاہئے ۔ سیاسی فوائد کیلئے ملک کے ماحول سے کھلواڑکی کوئی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ کئی گوشے چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم خاموشی توڑیں کیونکہ یہی ملک کے مفاد میں ہوگا ۔
