اندرون ملک کھپت بڑھ گئی ۔ آئندہ برسوں میں مزید اضافہ ممکن ۔ یو اے ای ‘ قطر ‘ کویت اور سعودی سے خریدی
حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) گذشتہ پانچ سال میں ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات میں 60 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اندرون ملک ایل پی جی کی طلب میںاضافہ ہوا ہے جبکہ سپلائی طلب کے مطابق نہیں رہی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں ایل پی جی کی درآمدات 2017 – 18 میں 11.4 ملین میٹرک ٹن تھی جو 2022- 23 میں بڑھ کر 18.3 فیصد ہوگئی تھی ۔ پٹرولیم و قدرتی گیس وزارت کے ڈیٹا میں یہ بات بتائی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ 2022 – 23 میںاندرون ملک گیس کی کھپت اور مانگ میں22 فیصد کا اضافہ ہوا تھا جبکہ اندرون ملک گیس کی پیداوار میںصرف 4 فیصد ہی اضافہ ممکن ہوپایا تھا ۔ حکومت کی جانب سے غریب خاندانوں کیلئے بھی مفت پکوان گیس کنکشن فراہم کئے جانے کے نتیجہ میں اندرون ملک گیس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک دہے میں پکوان گیس کنکشنس کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہوکر 320 ملین تک پہونچ گئی ہے ۔ مالیاتی قدر کے اعتبار سے 2022 – 23 میںہندوستان میں گیس کی درآمدات جملہ 13.3 بلین ڈالرس کی رہی جبکہ پانچ سال قبل درآمدات جملہ 5.8 بلین ڈالرس کی رہی تھیں۔ گذشتہ پانچ برس میں بین الاقوامی سطح پر ایل پی جی کی قیمتوں میں 46 فیصد کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ ملک میں ایل پی جی کی کھپت میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار کی وجہ سے ملک کے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر پر بوجھ بھی بڑھ رہا ہے ۔ متحدہ عرب امارات ‘ قطر ‘ سعودی عرب اور کویت ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات کا 95 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتے ہیں جبکہ امریکہ بھی حالیہ وقتوں میں ایک معمولی حصہ ہندوستان روانہ کرنے لگا ہے ۔ 2023 میں متحدہ عرب امارات ہندوستان کو پکوان گیس درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے ۔ جملہ درآمدات کا ایک تہائی حصہ متحدہ عرب امارات سے آیا ہے ۔ 2017 کے بعد سے عرب امارات سے ایل پی جی کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے ۔ متحدہ عرب امارات اور قطر سے پکوان گیس کی خریدی اسپاٹ مارکٹ کے تحت ہوتی ہے جبکہ سعودی عرب سے طویل مدتی معاہدات کے تحت گیس درآمد کی جاتی ہے ۔ ملک میں ایل پی جی کی کھپت کا 90فیصد حصہ گھروں کی پکوان گیس میں چلا جاتا ہے جبکہ صنعتی اور تجارتی صارفین مابقی حصہ استعمال کرتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ریاستوں میں اترپردیش ملک میں ایل پی جی کا سب سے زیادہ 13 فیصد حصہ استعمال کرتا ہے جبکہ 12 فیصد حصہ کے ساتھ مہاراشٹرا دوسرے نمبر پر ہے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ وقتوں میں ہندوستان میں گھریلو صارفین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ اب بھی کچھ خاندان ایسے ہیں جو فیول کے دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ بھی پکوان گیس استعمال کرنے لگیں گے ملک میں ایل پی جی کی کھپت میں مزید اضافہ ہوگا ۔