28 حلقوں میں اسکولس کا سنگ بنیاد ، شاد نگر میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب
حیدرآباد۔11 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج شاد نگر میں انٹگریٹیڈ رہائشی اسکول کا سنگ بنیاد رکھا اور کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جاریہ مالی سال کے دوران 5000 کروڑ کی لاگت سے انٹگریٹیڈ رہائشی اسکولوں کی تعمیر کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ کے 28حلقہ جات اسمبلی میں آج حکومت کی جانب سے رہائشی اسکولوں کی عمارتوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ گذشتہ حکومت کے دور میں 10 سال کے دوران 5000 سرکاری اسکولوں کو بند کیا گیا جبکہ ریاست میں کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد سے بے روزگاری کے مسائل کو دور کرنے کے علاوہ غریب عوام کے طبی و تعلیمی مسائل کو دور کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کر رہی ہے ۔مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر ریاست میں ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی کے علاوہ اقلیتوں کے درمیان تعلق خاطر پیدا نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے درمیان نفرت پیدا ہوگی اور ان کے ذہن آلودہ ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اسی لئے انٹگریٹیڈ اسکولوں کے قیام کے ذریعہ تمام طبقات کے درمیان موجود دوریوں کو پاٹنے کے اقدامات کے طور پر انٹگریٹیڈ رہائشی اسکولوں کے قیام کا منصوبہ تیار کیاگیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے علامی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے تحت حکومت نے انٹگریٹیڈ اسکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کو پر کرنے کے لئے ڈی ایس سی کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے 11ہزار سے زائد اساتذہ کے تقررات کو یقینی بنایاہے۔مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنانے اور انہیں عالمی معیار کی تعلیم کی فراہمی کے ذریعہ عصری ضرورتوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات شروع کئے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ بی آر ایس نے اپنے دور اقتدار میں غریب طلبہ کی تعلیم کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور محکمہ تعلیم کو نظر انداز کرتے ہوئے لاکھوں کروڑ خرچ کرنے کے باوجود کوئی بہتر انفراسٹرکچر فراہم نہیں کیا جس کے نتیجہ میں سرکاری اسکولوں میں آج بھی سہولتیں نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں عوامی حکومت کے اقتدارحاصل کرنے کے بعد محکمہ تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں اور اسی لئے حکومت نے اساتذہ کے تبادلوں اور ترقیات کے عمل کو مکمل شفافیت کے ساتھ تکمیل کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس نے بے روزگاری کے خاتمہ ‘ غریب عوام کی طبی اور تعلیمی سہولتوں کو بہتر بنانے کے وعدہ کے ساتھ ریاست میں اقتدار حاصل کیا تھا اور اب حکومت ان وعدوں کی تکمیل کر رہی ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے دور حکومت میں 22لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے اور 7لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا لیکن اس کے باوجود تعلیمی انفراسٹرکچر پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ انہو ںنے بتا یا کہ نرسمہا راؤ نے 1972 میں رہائشی اسکولوں کے منصوبہ کو روشناس کروایا تھا اور حکومت تلنگانہ اب ینگ انڈیا انٹگریٹیڈ ریسڈینشل اسکولس قائم کرتے ہوئے معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ انہو ںنے سیکریٹری محکمہ تعلیم مسٹر بی وینکٹیش آئی اے ایس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ نرسمہا راؤ کے نظریہ رہائشی اسکول سے فارغ ہونے والے عہدیدار ہیں اور ایسے کئی عہدیدار ہیں جو سرکاری رہائشی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اونچے عہدوں پر فائز ہوئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ وہ سابق آئی پی ایس عہدیدار آر ایس پروین کمارکا احترام کرتے ہیں لیکن بھارت راشٹرسمیتی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ان کے نظریات تبدیل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مسٹر آر ایس پروین کمار کی جانب سے انٹگریٹیڈ رہائشی اسکولوں کی تعمیر پر اعتراض کئے جانے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوں وہ سماجی مساوات کے قائل نہیں ہیں!چیف منسٹر نے استفسار کیا کہ آیا پروین کمار ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی طبقات کو بھیڑ بکری کی تقسیم کی حد تک محدود رکھنے کے حق میں ہیں!انہو ں نے بتایاکہ کانگریس حکومت ریاست میں عوام کے درمیان مذہبی ‘ طبقاتی تفاوت کو دور کرتے ہوئے سماجی مساوات پیدا کرتے ہوئے تمام مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے حق میں ہے۔ ریاست میں عوامی حکمرانی کے آغاز کے بعد سے اندرون 90 یوم 30ہزار ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی گئی اور گذشتہ دنوں حکومت نے 11ہزار نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے ذریعہ انہیں سرکاری خدمات میں شامل کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کے سی آر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں آمرانہ طرز حکمرانی کے ذریعہ اپنے افراد خاندان کو فائدہ پہنچایا ہے جبکہ کانگریس تلنگانہ کی تشکیل کے حقیقی مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے اپنے خاندان کو حکمران بنایا اور غریب عوام کے بچوں کو بھیڑ ‘ بکروں کے چرواہے بنانے کا کام انجام دیا ہے۔انہو ںنے ریاست میں موجود 1023 رہائشی اسکولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں ان اسکولوں میں کسی بھی طرح کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی انہیں بہتر بنانے کے اقدامات کئے گئے ۔چیف منسٹر نے پارلیمانی انتخابات میں بھارت راشٹرسمیتی کو ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام نے اسمبلی انتخابات کے بعد پارلیمانی انتخابات میں بھی بی آر ایس کو مسترد کردیا ہے۔انہوں نے ریاست کے 33اضلاع میں سرکاری اراضیات پر بی آر ایس کے دفاتر کے قیام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے دور اقتدار میں اپنے پارٹی آفس کی تعمیر پر توجہ دی لیکن غریب طلبہ کو بہتر انفراسٹرکچر کی فراہمی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔انہو ںنے کہا کہ کے سی آر نے اس کام کے لئے خوب دولت خرچ کی اور سرکاری اراضیات کو حاصل کیا لیکن غریب طلبہ کے لئے اسکول کی تعمیر پر کوئی منصوبہ تک نہیں بنایا گیا ۔ 3