نئی دہلی: ہندوستان نے پڑوسی ممالک کے غیر مسلموں کے لیے اہم فیصلہ لیا ہے۔ اس کے تحت 9 ریاستوں کے ہوم سیکرٹریز اور 31 ضلعی افسران کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں کے لوگوں کو شہریت دے سکتیہیں۔ یہ فیصلہ شہریت قانون 1955 کے تحت لیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔یہ رپورٹ 1 اپریل سے 31 دسمبر 2021 تک 2021-22 کے لیے ہے۔ اس کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ان اقلیتی برادریوں کے کل 1414 غیر ملکی شہریوں کو ہندوستانی شہریت دی گئی ہے۔ یہ کام شہریت قانون 1955 کے تحت رجسٹریشن کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019 کے بجائے 1955 کے شہریت ایکٹ کے تحت دوسرے ممالک سے آنے والے غیر مسلم مہاجرین کو شہریت دینے کا فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم، سی اے اے کے تحت، حکومت نے ابھی تک قواعد وضع نہیں کیے ہیں اور اس لیے اس کے تحت کسی کو شہریت نہیں دی جا رہی ہے۔ایم ایچ اے کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکز نے مزید 13 ضلعی کلکٹروں اور دو مزید ریاستی ہوم سکریٹریوں کو ہندوستانی شہریت دینے کا حق دیا ہے۔ تین ممالک سے ہندوستان آنے والے غیر مسلموں کو شہریت کے لیے آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ اس کے بعد کلکٹر ضلع سطح پر ان درخواستوں کی تصدیق کریں گے۔درخواست کے ساتھ رپورٹ مرکزی حکومت کو آن لائن دستیاب کرائی جائے گی۔ اس عمل کے بعد کلکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ جن ریاستوں میں غیرمسلم شہریوں کو شہریت دی جائے گی، وہ ہیں ان کے نام ہیں گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ، پنجاب، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، دہلی، مہاراشٹر۔واضح ہوکہ تفتیش کے عمل کی تکمیل کے بعد، کلکٹر ان لوگوں کے لیے رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جن کی درخواست درست پائی جائے گی۔نریندر مودی کی حکومت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے 31 دسمبر 2014 تک ہندوستان آنے والے مظلوم غیر مسلم تارکینِ وطن — ہندو، سکھ، بدھ، پارسی اور عیسائی کو ہندوستانی شہریت دینا چاہتی ہے۔حالانکہ درخواست گزاروں میں صرف ہندواور سکھ ہیں۔ گزشتہ ماہ گجرات کے آنند اور مہسانہ اضلاع کو یہ حق دیا گیا تھا۔