دل کا قصہ، دلبری کی داستاں اچھی لگی
اپنی جانب اک نگاہِ مہرباں اچھی لگی
پاکستان کا سیاسی بحران مسلسل پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں جہاںعمران خان کو وزارت عظمی سے بیدخل کرنے کیلئے اٹل دکھائی دیتی ہیں وہیں عمران خان وزارت عظمی اورا پنی کرسی کو بچانے کیلئے ہر ممکن جدوجہدکرتے جارہے ہیں۔ نت نئے طریقے اور انداز اختیار کرتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے وہ کہ ہونی کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار پر برقرار رہنا چاہتے ہیں۔ یہ جمہوری عمل کا حصہ نہیں بلکہ اقتدار کا نشہ دکھائی دیتا ہے جس کے نتیجہ میںعمران خان کسی بھی قانونی اور دستوری کارروائی کو قبول کرنے کی بجائے اس سے بچنے کی راہیں تلاش کرتے جا رہے ہیں۔ جس طرح سے تحریک عدم اعتماد کے مسئلہ نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو منفی انداز میں پیش کیا ہے اس کیلئے عمران خان حکومت زیادہ ذمہ دار دکھائی دیتی ہے ۔ویسے تو پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں بھی صرف ایک نکتہ پر توجہ دئے ہوئے ہیں کہ کسی طرح عمران خان کو اقتدار سے بیدخل کیا جائے ۔عمران خان بھی اپوزیشن کی ہر کوشش کا جواب دینے کی جدوجہد کرتے جا رہے ہیں اور دونوںفریقین کی آپسی رسہ کشی نے عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو متاثر کیا ہے وہیں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خود عمران خان کی شبیہہ بھی متاثر ہوئی ہے ۔ عمران خان اکثر یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا اقتدار اور حکومت صرف عوام کی بہتری کیلئے ہے ۔ انہیں اقتدار کی یا دولت کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے پاس اللہ کا دیا ہوابہت کچھ ہے ۔ یقینا عمران خان کے پاس بہت کچھ تھا اور ہے بھی لیکن اقتدار نہیں تھا اور شائد اسی وجہ سے عمران خان اصولوںکوبھی ترک کرتے نظر آرہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماددستوری ‘ جمہوری اور سیاسی عمل کا حصہ ہے اور اس سے کسی کو بھی بچنا مشکل ہی ہوتا ہے ۔ اب آپ کے پاس ایوان میں ثابت کرنے کیلئے اپنی اکثریت نہیںہے اور آپ عددی طاقت سے محروم ہیں تو پھر آپ کوصورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑتا ہے ۔کئی ممالک میں ایساہوتا ہے کہ جب اپوزیشن کو موقع ملتا ہے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے اورحکومتیں اس کا سامنا کرنے سے فرار نہیں ہوتیں۔
عمران خان اقتدار سے چمٹے رہنے کی جوتگ و دو کر رہے ہیں وہ ان کے عزائم کے تعلق سے شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے ۔ ان کی شریک حیات کی دوست پر جس طرح کے الزامات عائد ہوئے ہیں اور وہ عمران خان حکومت کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ملک چھوڑ کر چلی گئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے بھی عمران کی جدوجہد پر شبہات پیدا ہونا واجبی دکھائی دیتا ہے ۔ عمران خان جس بحران کا شکار ہیںاس طرح کی صورتحال کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتی ہے ۔ کسی کو بھی حکومت کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ حلیف جماعتیں خود حکومت کے خلاف بغاوت کرسکتی ہیں۔ خود برسر اقتدار جماعت کے ارکان مخالفت کرسکتے ہیں اور کسی بھی حال میں حکومت کو صورتحال کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے ۔ تاہم عمران خان جس طرح سے صورتحال کا سامنا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ان کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔ ان کا امیج متاثر ہو رہا ہے ۔ اب تک پاکستان کی امیج متاثر ہوئی تھی اور یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہیں اور وہ ملک کیلئے جدوجہدکر رہے ہیں۔ وہ ملک میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم حقیقت صورتحال یہی دکھائی دیتی ہے کہ عمران خان اپنی کرسی اور حکومت بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ نہیںچاہتے کہ اپوزیشن کواقتدار میں واپسی کا کوئی بھی موقع ہاتھ آجائے یا پھر خود ان کی اپنی کرسی ان کے ہاتھ سے چلی جائے ۔
پاکستان میںیہ روایت رہی ہے کہ حکومتیں اپنی معیاد کے درمیان ہی کسی نہ کسی طرح کے مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں اور انہیں زوال کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ کبھی صدر کی جانب سے انہیں برطرف کردیا جاتا رہا تو کبھی کچھ اورمسائل پیدا ہوئے تھے ۔ تاہم سیاسی بحران پاکستان اور وہاں کے سیاسی قائدین اور جماعتوں کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ کئی دہوں کی جدوجہد کے بعد بھی یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان کے سیاستدانوں میں سنجیدگی کا فقدان ہے ۔وہ کسی بھی فیصلے یا کام میں سنجیدہ ہونے کی بجائے چل چلاؤ والا رویہ اختیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی حالت ابتر ہوتی گئی ہے ۔ عمران خان کو بھی صورتحال کے تقاضوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں بھی یہ حقیقت قبول کرلینی چاہئے کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہوگئے ہیں تو اس میں کوئی ہٹ دھرمی کی ضرورت نہیں ہے ۔ فراخدلی سے صورتحال کو قبول کرتے ہوئے وہ عوام سے دوبارہ تائید حاصل کرنے رجوع ہوسکتے ہیں۔
سری لنکا کا بحران
سری لنکا میں ان دنوں سنگین معاشی بحران چل رہا ہے ۔ عوام کو غذائی اجناس ‘ ادویات اور فیول تک ملنا مشکل ہوگیا ہے ۔ صورتحال اتنی سنگین ہوگئی ہے کہ عوام کو کئی کئی گھنٹوں تک برقی نہیں مل پا رہی ہے ۔ عوام سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ راجا پکشے خاندان کا سری لنکا پر جو کنٹرول تھا وہ کمزور ہوگیا ہے اور لوگ اسی خاندان کو اقتدار سے بیدخل ہوجانے کیلئے اصرار کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صورتحال اچانک ہی خراب ہوئی ہے ۔ ملک کی معیشت پر مختلف وجوہات کی بناء پر منفی اثرات مرتب ہوتے جا رہے تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ سری لنکا کے حکمران اقتدار کے نشہ میں دھت تھے اور انہیں کسی بات کی پرواہ نہیں رہ گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی معیشت بالکل سست روی کا شکار ہوگئی ہے ۔ عوام کو غذائی اجناس کی فراہمی تک آسان نہیں رہ گئی ہے ۔ لوگ کئی کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑے ہونے کے باوجود بھی فیول حاصل نہیںکر پا رہے ہیں۔ حکومت کو انقلابی اقدامات کے ذریعہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے یا پھر دوسروں کیلئے راستہ ہموار کرنا چاہئے ۔
