پاکستان سے دہشت گردی پرمہذب مذاکرات ممکن

   

وزیرخارجہ ایس جئے شنکر کا دورۂ سنگاپور کے دوران بیان ،جارحانہ رویہ پر مذاکرات مشکل
سنگاپور ۔6ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر خارجہ ہندوستان ایس جئے شنکر نے جمعہ کے دن کہا کہ ہندوستان دہشت گردی پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں کھلا ذہن رکھتا ہے بشرطیکہ مذاکرات مہذب انداز میں منعقد کئے جائیں ۔ میرے سر کو بندوق سے نشانہ بناتے ہوئے مذاکرات نہیں کئے جاسکتے ۔ اُن کا یہ تبصرہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر آنے کے پس منظر میں اور 5 اگست کو جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی تنسیخ کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ اُن کی موجودگی میں 40مختلف دہشت گرد گروپس اُن کی سرزمین پر فروغ پارہے ہیں ۔ جئے شنکر نے کہا کہ ہم بات چیت کیلئے کھلا ذہن رکھتے ہیں جبکہ آپ ایک مہذب پڑوسی کا رویہ اختیار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میں پاکستان سے بات چیت نہیں کروں گا ، لیکن جارحانہ رویہ اختیار کرنے پر بات چیت ناممکن ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر خلیج بنگال اور بحرہند کے علاقہ میں موجود ممالک کا پائیدار امن دنیا کی خواہش ہے تو اُسے فطری طور پر اُن کے پروگراموں پر غور کرنا ہوگا ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ ہندوستان کی ترقی صرف ایک ہی سمت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کی بہ نسبت ہندوستان کے کارنامے نمایاں ہیں ۔ افریقہ میں ہندوستان نے 10نئے سفارتخانے قائم کئے ہیں ۔

جئے شنکر نے کہا کہ ہندوستان افریقی ممالک میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پروگرام کی عالمی اہمیت ہے ۔ نائب وزیراعظم سنگاپور ہینگ سوئی کیٹ نے اس تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ ہندوستان ، سنگاپور اور تھائی لینڈ بحری جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے ۔ تاہم انہوں نے اپنی تجویز کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا ۔ انہوں نے ہندوستان اور سنگاپور کے درمیان فضائی رابطہ میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ ہندوستان کو آسیان کے رکن ممالک کو روابط کے سلسلہ میں ترجیح دینی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایشیاء کے مشرق بعید اور دنیا میں ایک اچھا مقام سنگاپور کی صورت میں سرمایہ کاری کیلئے رکھتے ہیں ۔جئے شنکر اپنے دورہ کے موقع پر چھٹویں مشترکہ وزارتی کمیٹی کے معاون صدر ہوں گے ۔ دوسرے معاون صدر وزیر خارجہ سنگاپور ووین بالا کرشنن ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین مشترک مسائل رکھتے ہیں اور دونوں دفاعی شراکت داری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ وہ وزیراعظم سنگاپور لی سین لونگ اور دیگر سینئر وزراء سے بھی ملاقات کریں گے ۔