عمران خان کی صدارت میں میٹنگ کے بعد تبدیلی ،جموں و کشمیر پر نئی دہلی کے یکطرفہ و غیرقانونی اقدام پر اسلام آباد کا ردعمل
اسلام آباد ۔ /7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے چہارشنبہ کو انڈین ہائی کمشنر اجئے بساریا کو اس فیصلہ کے چند منٹوں میں خارج کرنے کے احکام جاری کردیئے کہ ہندوستان کہ ساتھ سفارتی روابط کو کم کرلیا جائے کیونکہ اس کی دانست میں نئی دہلی کا جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو منسوخ کرنے کا اقدام یکطرفہ اور غیرقانونی ہے ۔ اس کا اعلان وزیراعظم پاکستان عمران خان کی صدارت میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی اہم میٹنگ کے بعد کیا گیا ۔ اس اجلاس میں سرکردہ سیول اور ملٹری قیادت شریک ہوئی ۔ میٹنگ کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ باہمی تجارت کو معطل کردیا جائے اور باہمی معاہدوں پر نظرثانی کی جائے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے این ایس سی میٹنگ کے فوری بعد ٹیلی ویژن پر کہا کہ ہمارے سفیر نئی دہلی میں نہیں رہیں گے اور ان کے ہم منصب سفارتکاروں کو بھی واپس بھیج دیا جائے گا ۔ بعد ازاں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ آج نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے فیصلہ کی مطابقت میں حکومت ہند سے اپنے ہائی کمشنر برائے پاکستان کو واپس طلب کرلینے کیلئے کہا گیا ہے ۔
تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ہندوستان کو کتنی مہلت دی گئی ہے ۔ حکومت ہند کو یہ بھی مطلع کیا گیا کہ پاکستان اپنے نامزد ہائی کمشنر برائے ہند کو نہیں بھیجے گا ۔ پاکستان کے نئے ہائی کمشنر معین الحق اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے اسی ماہ ہندوستان کیلئے روانہ ہونے والے تھے ۔ ہندوستان نے پیر کو دستور کا آرٹیکل 370 منسوخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو دیا گیا خصوصی درجہ ہٹالیا اور اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا ۔ این ایس سی میٹنگ کے بعد جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے ہندوستانی حکومت کی طرف سے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال پر غور و خوص کیا ۔ نیز اندرون جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے پاس حالات کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ کمیٹی نے ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹادینے ، پڑوسی ملک کے ساتھ باہمی تجارت کو معطل کردینے کا فیصلہ بھی کیا ۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ہندوستان کی جانب سے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے معاملے کو اقوام متحدہ بشمول سلامتی کونسل سے رجوع کرے گا ۔ ہندوستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے اور یہ مسئلہ ملک کا بالکلیہ داخلی معاملہ ہے ۔پاکستان کے بیان میں کہا گیا کہ ملک /14 اگست کو اس مرتبہ یوم آزادی کو کشمیریوں کے ساتھ یگانگت کے طور پر منائے گا ۔ نیز /15 اگست کو یوم سیاہ منایا جائے گا ۔
