پاکستان میں سیاسی افرا تفری

   

Ferty9 Clinic

مجھے کچھ دیر میں پھر یہ کنارا چھوڑ دینا ہے
میں کشتی ہوں سفر میرا ہر اک ساحل سے آگے ہے
پاکستان میں سیاسی افرا تفری مچی ہوئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اور حکومت دونوں ہی ملک کو اپنی اپنی مرضی سے کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔دونوں کی سمت مخالف ہے ۔ حکومت کے دعوے ملک کو ترقی کی راہ پر لیجانے کے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں ملک کی معیشت میں استحکام آیا ہے ۔ وہ درست سمت میں جا رہی ہے ۔ ملازمتیں اور روزگار کی شرح بھی بڑھی ہے ۔ اس کے برخلاف اپوزیشن کے دعوے ہیں کہ ملک میں معیشت بری طرح متاثر ہوگئی ہے ۔ عوام پر مہنگائی کا بوجھ عائد ہوگیا اور یہ بوجھ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے ۔ ملک عالمی سطح پر یکا و تنہا ہوگیا ہے ۔ اپوزیشن کے الزامات کے ساتھ ساتھ حکومت کی حلیف اور اتحادی جماعتیں بھی ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ اتحادی جماعتیں حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کی صفوں میں جا شامل ہوئی ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس نے پاکستان میں سیاسی افرا تفری کو اور بھی سنگین کردیا ہے ۔ پاکستان پہلے ہی کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے ۔ حکومت کی کوئی سمت نظر نہیں آتی ۔ اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کو تجاویز پیش کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مستقبل کو روشن بنانے کیلئے تگ و دو کر رہی ہیں۔ بحیثیت مجموعی وہاں حکمرانی کا فقدان نظر آتا ہے ۔ صوبائی حکومتیں بھی سنجیدگی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اسی اتھل پتھل کے دور میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ۔ پارلیمنٹ میں اس پر مباحث ابھی تک نہیں ہو پائے ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کا دعوی ہے کہ عمران خان ایوان میں اکثریت سے محروم ہوچکے ہیں۔ عمران خان استعفی پیش کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آخری لمحہ تک جدوجہد کریں گے ۔ انہوں نے اس ساری صورتحال میں کسی بیرونی طاقت کے سرگرم ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بیرونی ملک اپوزیشن جماعتوں کی مدد کرتے ہوئے ان کی حکومت کو زوال کا شکار کرنے کی سازش پر عمل کر رہا ہے ۔
عمران خان کی حکومت بظاہر تو اکثریت سے محروم ہوچکی ہے ۔ اس کے باوجود مباحث کو ٹالنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ ایوان میں رائے دہی کو بھی ٹالنے کے منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ کوئی نہ کوئی بہانہ یا عذر پیش کرتے ہوئے وقت حاصل کیا جا رہا ہے ۔ساتھ ہی یہ بھی کوشش ہو رہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد سے دستبرداری اختیار کرلیں اورعمران خان ملک میں وسط مدتی انتخابات کا اعلان کردیں گے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس فارمولے کو قبول کرنے تیار نہیں ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں حکومت کو شکست سے دوچار کریں گی ۔ اپوزیشن جماعتیں خود حکومت تشکیل دیں گی اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں وسط مدتی انتخابات کی حکمت عملی تیار کریں۔ سیاسی اغراض و مقاصد ملک کے مفادات پر ترجیح حاصل کرچکے ہیں۔ ہر جماعت اپنے اپنے فائدہ کیلئے کام کرتی نظر آ رہی ہے اور ملک کے جو داخلی حالات ہیں ان پر کسی کی توجہ نہیں ہے ۔ حکومت اپنے وجود کو بچانے کیلئے جدودجہد کر رہی ہے تو اپوزیشن جماعتیں اپنے مفادات کی تکمیل کرنا چاہتی ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کا موقف انتہائی کمزور ہوگیا ہے ۔ اس کو سدھارنے کی بجائے داخلی صورتحال کو بھی بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے ۔ ان حالات میں پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت اور بھی مسائل کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے اور اس کے اثرات آگے بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس پہلو پر نہ حکومت توجہ دینے کے موقف میں ہیں اور نہ اپوزیشن ایسا کرنے کیلئے تیار ہے ۔
پاکستان کا جو سیاسی نظام ہے وہ پوری طرح سے ناکارہ نظر آتا ہے ۔ حکمرانی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے ۔ صرف تنقیدیں اور جوابی تنقیدیں کرنا سیاست نہیں ہوتا ۔ سیاست کے نام پر حکمرانی کو مذاق نہیں بنایا جاسکتا ۔ تاہم پاکستان میں ایسا کردیا گیا ہے ۔ جو حالات ہیں وہ پاکستان کے مستقبل کیلئے بھی اچھے نہیں کہے جاسکتے ۔ سیاسی افرا تفری کو ختم کرنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن سبھی کو سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی تاہم وہاں کی تمام جماعتوں میں سنجیدگی کا فقدان ہی نظر آتا ہے ۔ تحریک عدم اعتمادکا نتیجہ کیا ہوگا اور حالات کس طرح تبدیل ہونگے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ تاہم اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ صورتحال مستحکم ہرگز نہیں ہے ۔